Al-Risala · November 1985 · page 18

ایمان

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۸

ایمان

قرآن میں ساتویں پارہ کے شروع میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو نجران سے آئے تھے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کا کچھ حصہ سنا۔ ان پر کھل گیا کہ یہ دین برحق ہے وہ اسی وقت ایمان لائے اور روتے ہوئے سجدے میں گر پڑے: واذا سمعواما انزل الى الرسول ترى اعينهم تفيض من الدمع مما عرفوا من الحق يقولون ربنا آمنا فاكتبنامع الشاهدين ( المائدہ ۸۳ )

اس آیت میں ایمان کو معرفت کہا گیا ہے (مما عرفوا من الحق) یعنی حق کو پہچان لینا جس چیز کی پہچان ہو اسی کے لحاظ سے آدمی کے اندر تاثرات پیدا ہوتے ہیں۔ خدا چوں کہ سب سے بڑی طاقت ہے اس لیے خدا کی پہچان سے آدمی کے اندر عجز اور تضرع کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ نجران کے لوگوں میں جب خدا کی معرفت پیدا ہوئی ۔ جب ان پر خدا کی عظمت منکشف ہوئی تو ان کا سینہ پھٹ گیا۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ بے اختیار ہو کر سجدے میں گر پڑے ۔

اسی طرح صحیح مسلم میں ایک روایت ہے جو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نقل ہوئی ہے ۔ وہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : من مات وهو يعلم انه لا اله الا الله دخل الجنة (جو شخص اس حال میں مراکہ وہ جانتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں وہ جنت میں داخل ہوگا )

اس حدیث میں ایمان کو علم کہا گیا ہے۔ یعنی جاننا، آگاہ ہونا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان ایک جاننے کا واقعہ ہے۔ وہ ایک شعوری دریا فت ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اسی قسم کا ایک گہرا تجربہ ہے جس کو موجودہ زمانہ میں ڈسکوری (دریافت) کہا جاتا ہے۔ ایمان ایک ڈسکوری ہے۔ ایمان ایک ایسی ہستی کی موجودگی کو پالینا ہے جو بظاہر ہمارے سامنے موجود نہیں۔ ایمان اس گہرے ادراک کا نام ہے جب کہ آدمی کے لیے غیب کا پردہ پھٹ جاتا ہے اور وہ خدا کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اسے دیکھنے لگتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues

Printed page