عجز کی تلافی
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۴
عجز کی تلافی
خداقا در مطلق ہے اور انسان عاجز مطلق۔ خدا اور انسان کے درمیان جو تقسیم ہے وہ نہ زیادہ اختیار اور کم اختیار کی نہیں ہے بلکہ اختیار اور بے اختیاری کی ہے۔ یہاں سارا اختیار خدا کی طرف ہے اور ساری بے اختیاری انسان کی طرف۔
ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ ایسی تخلیق کا کیا جواز ہے جس میں انسان کو حقیقی طور پر کچھ دیا ہی نہ گیا ہو۔ خدا کے لئے کیوں تر جائیے تھا کہ وہ ایسے انسان پیدا کرے جو سراسر عاجز ہوں۔ جن کو نہ اپنے آپ پر کوئی اختیار حاصل ہو اور نہ اپنے سے باہر کی دنیا پر۔
اس سوال کا صحیح جواب صرف وہ ہو سکتا ہے جس میں انسان کے عجز کی کامل تلافی موجود ہو۔ کامل تلافی سے کم کوئی چیز اس سوال کا حقیقی جواب نہیں بن سکتی۔ کامل تلافی کا مطلب یہ ہے کہ جو جواب دیا جائے وہ اسی سطح پر ہو جو سوال کی سطح ہے۔ یعنی انسان کا عجز بذات خود اس کی بے اختیاری کی تلافی ہو جائے۔ اس سوال کا جواب قرآن میں اور پیغمبر کی تعلیمات میں واضح طور پر موجود ہے۔ اور وہ خدا کی یہ رحمت خاص ہے کہ اس نے صرف مانگنے کو پانے کے لئے کافی بنا دیا ہے۔ آدمی اگر حقیقی طور پر خدا سے مانگنے والا بن جائے تو یقین طور پر وہ اپنے لئے پانے والا بھی بن جائے گا۔ انسان جب ذاتی اقتدار کا مالک نہیں تو وہ دئے ہی سے پا سکتا ہے۔ چنانچہ خدا نے اس کو اپنی طرف سے دے دیا۔ حقیقی دعا کے لئے قبولیت کی ضمانت ہونا یہی گویا اس کو دے دینا ہے۔
حدیث میں یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ الدعوة لا ترد ۔ یعنی بندہ اپنے خدا کو اگر حقیقی طور پر پکارے تو اس کی پکار کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ حضرت مسیح نے اسی بات کو ان لفظوں میں فرمایا: مانگو تو تم کو دیا جائے گا۔ ڈھونڈو تو پاؤ گے ۔ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔ کیوں کہ جو کوئی مانگتا ہے اسے ملتا ہے اور جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے۔ اور جو کھٹکھٹاتا ہے اس کے واسطے کھولا جائے گا۔ تم میں ایسا کون سا آدمی ہے کہ اگر اس کا بیٹا اس سے روٹی مانگے تو وہ اسے پتھر دے دے۔ یا اگر مچھلی مانگے تو اسے سانپ دے دے۔ پس جب کہ تم برے ہو کر اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا جانتے ہو تو تمہارا باپ جو آسمان پر ہے اپنے مانگنے والوں کو اچھی چیزیں کیوں نہ دے گا۔ (متی ۷: ۷۔ )
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues