متاع کا مطلب
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳
لا جناح علیکم ان طلقتم النساء تم پر کچھ گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو اس وقت مالم تمسوھن او تفرضوالھن فریضة طلاق دو کہ ان کو تم نے ہاتھ نہ لگایا ہو اور ان کے ومتعوهن علی الموسع قدره ۵ لیے کچھ مہر مقرر نہ کیا ہو ۔ اور ان کو کچھ دو ، وسعت وعلى المقتر قدره ۵ متاعاً بالمعروف والے پر اس کے موافق ہے اور تنگی والے پر اس حقا علی المحسنين (۲۳۶) کے موافق ہے ، دستور کے مطابق ۔ لازم ہے نیکی وللمطلقات متاع بالمعروف کرنے والوں پر ۔ ۔۔۔۔ اور طلاق دی ہوئی حقا علی المتقين (۲۴۱) عورتوں کو فائدہ دینا ہے دستور کے موافق ۔ لازم ہے پرہیزگاروں کے لیے ۔
فقہی تفصیلات سے قطع نظر، پہلی آیت (۲۳۶) کا سادہ مطلب یہ ہے کہ نکاح کے وقت اگر مہر نہیں ٹھہرایا گیا تھا اور نہ مرد نے عورت کو ہاتھ لگایا تھا ، اور اس سے پہلے مرد نے طلاق دیدیا تو مرد پر لازم ہے کہ عورت کو رخصت کرتے ہوئے اسے کچھ دے ۔ یہ دینا اپنی حیثیت کے مطابق ہوگا۔ ایسی صورت میں مہر دینا لازم نہیں۔
دوسری آیت (۲۴۱) میں یہی حکم عمومی انداز میں طلاق کے تمام واقعات کے لیے ہے ۔ جب بھی کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے تو آخری علیحدگی کے وقت اس کو چاہیے کہ حسن جدائی کی علامت کے طور پر عورت کو کچھ دے ۔ مثلاً کپڑا یا اور کوئی چیز ۔ بعض فقہاءءء کے نزدیک پہلی صورت میں "متاع" دینا ضروری ہے ۔ جب کہ دوسری صورت میں متاع دینا صرف مستحب ہے۔ مزاج شریعت اس آیت کے سلسلہ میں فقہا کے درمیان ضمنی اختلافات ہیں ۔ تاہم یہ بات تمام فقہا کے درمیان متفق علیہ ہے کہ اس کا تعلق اس مسئلہ سے ہے کہ طلاق واقع ہونے کے بعد وقتی طور سابق بیوی سے کیا سلوک کیا جائے ۔ اس مسئلے سے اس آیت کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ طلاق اور علیحدگی کی تکمیل کے باوجود مطلقہ عورت کو مرد کی طرف سے مستقل گزارہ (Maintenance) دیا جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دوسرا تصور تمام تر جدید تہذیب کی پیدا وار ہے۔ یہ تصور کبھی بھی الہی شریعت میں نہیں پایا گیا ہے۔ نہ اسلام میں اور نہ اسلام سے پہلے کی آسمانی شریعتوں میں۔ مسلم فقہاء
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues