متاع کا مطلب
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴
کے درمیان آیت کے عملی انطباق کے سلسلہ میں بہت کچھ جزئی اختلافات ہیں ۔ مگر فقہاء میں سے کسی کی بھی یہ رائے نہی ۔ اس آیت کے تحت مرد کے اوپر لازم ہے کہ وہ باقاعدہ طلاق واقع ہونے کے بعد بھی مستقل طور پر اپنی سابقہ بیوی کو گزارہ دیتا رہے ۔ ایک شخص بطور خود اس قسم کا خیال ظاہر ہے ۔ مگر قرآن یا حدیث کے اندر اس کے حق میں کوئی دلیل یا ماخذ موجود نہیں ۔ اور نہ اسلامی فقہاء میں سے کسی بھی فقیہہ کی یہ رائے ہے ۔
اسلامی فقہ میں اسی لیے اس مُتعہ کو مُتعہ طلاق کہتے ہیں نہ کہ مُتعہ حیات ، یعنی وہ مُتعہ - (کچھ مال) جو طلاق دے کر رخصت کرتے وقت عورت کو دیا جائے ۔
قرآن ہر مسئلہ کو فطری انداز میں حل کرنا چاہتا ہے ۔ اس لحاظ سے یہ بات سراسر قرآنی روح کے خلاف ہے کہ جس مرد سے نباہ نہ ہونے کی بنا پر عورت کی جدائی ہوئی ہے اسی مرد سے اس عورت کا نفقہ دلوایا جائے ۔ یہ چیز سماج میں منفی ذہنیت پیدا کرنے کا ذریعہ بنے گی ۔ چنانچہ قرآن میں نکاح و طلاق کے احکام کے ذیل میں ارشاد ہوا ہے :
وان يتفرقا يُغنِ الله كُلاً من اور اگر دونوں جدا ہو جائیں تو اللہ ہر ایک کو سعتہ وكان الله واسعا حكيمًا اپنی وسعت سے بے نیاز کر دے گا اور اللہ وسعت والا حکمت والا ہے ۔
اللہ کی وسعت سے مراد وہ وسیع فطری نظام ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنے بندوں کے لیے مہیا کر رکھا ہے ۔ عورت کو جب طلاق ہو جائے تو اس کے تمام خونی رشتوں میں فطری طور پر اس سے ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ کسی دباؤ کے بغیر اس کی مدد اور سرپرستی کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ خود عورت کے اندر نئی قوت ارادی ابھرتی ہے اور وہ اپنے مسئلہ کے حل کے لیے اکثر ایسے کام کر ڈالتی ہے جو اس نے اس سے پہلے سوچا بھی نہیں تھا ۔ سابقہ تجربات اس کو زیادہ سمجھ دار اور محتاط بنا دیتے ہیں اور اس طرح وہ اس قابل ہو جاتی ہے کہ اگر وہ دوبارہ کسی سے رشتہ نکاح میں منسلک ہو تو زیادہ کامیابی کے ساتھ رشتہ کو نباہ سکے ۔ وغیرہ طلاق کے بعد اس سلسلہ میں دوسرا سوال یہ ہے کہ طلاق کے بعد ایک عورت کے لیے اپنے ضروری
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues