محرومی نہیں
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۵
محرومی نہیں
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا کیس احساس مظلومی (Persecution complex) کا کیس بن گیا ہے۔ تقریباً ساری دنیا کے مسلمانوں پر کسی نہ کسی قسم کی محرومی کا احساس چھایا ہوا ہے۔ ان کو یہ شکایت ہے کہ دوسری قومیں ان پر ظلم کر رہی ہیں۔ دوسری قومیں ان سے ان کی چیزیں چھینے ہوئے ہیں۔
وہ کیا چیزیں ہیں جو دوسری قومیں مسلمانوں سے چھینے ہوئے ہیں۔ وہ ہیں سیاسی اقتدار ۔ سرکاری ملازمتیں، معاشی وسائل ، سماجی ادارے، مادی مفادات۔ یہی وہ چیزیں ہیں جن کے متعلق مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ غیر مسلم اقوام نے ان سے انہیں محروم کر رکھا ہے۔ اگر چہ یہ "محرومی" سراسر مسلمانوں کی اپنی غفلت کا نتیجہ ہے۔ مسلمانوں سے حقیقہ چینا نہیں گیا ہے بلکہ مسلمانوں نے خود کھویا ہے۔ گویا یہ اپنی نااہلی کا کیس ہے نہ کہ دوسروں کے ظلم کا۔ تاہم اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایک چیز کھونے کے بعد بھی انھیں دوسری چیز حاصل ہے۔ انھوں نے "دنیا" کھوئی ہے۔ مگر "دین" اب بھی ان کے پاس پوری طرح موجود ہے۔ خدا کی آخری کتاب ان کے پاس ہے۔ خدا کا دین محفوظ حالت میں ان کے یہاں موجود ہے۔ وہ ایک ایسے زندہ رسول کے وارث ہیں جس کی نبوت ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔ یہ جو چیز انھیں حاصل ہے یہ زیادہ بڑی چیز ہے۔ پھر کیسی عجیب بات ہے کہ چھوٹی چیز کے کھوئے جانے کا تو وہ غم کریں اور جو بڑی چیز اب بھی حاصل ہے اس کا انھیں کوئی احساس نہ ہو۔
ہمارے نزدیک دنیوی ترقی کا دروازہ بھی مسلمانوں پر بند نہیں۔ تاہم عام ذہن کے مطابق اگر یہ مان لیا جائے کہ ان پر دنیوی ترقی کے دروازے بند ہیں تب بھی عین اسی وقت آخرت کی ترقی کے دروازے ان پر کھلے ہوتے ہیں جو یقیناً زیادہ بہتر ہے اور ابدی بھی۔ پھر کیسے عجیب ہوں گے وہ لوگ کہ چھوٹی چیز کی محرومی انھیں تڑپائے مگر بڑی چیز کا حاصل رہنا ان کے اندر کوئی جوش پیدا نہ کرے۔
بندوں سے اگر مسلمانوں کو نہیں مل رہا ہے تو خدا سے طئے کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوئے ہیں ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خدا کے کام میں مشغول ہو کر خدا سے وہ سب کچھ مزید اضافے کے ساتھ پالیں جس کو وہ بندروں سے نہ پاسکے اور نہ کبھی وہ ان سے پاسکتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues