مذہب کی حقیقت
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۷
فاصلوں کو انسان کے لیے بالکل قریب کر دیا ہے۔ ۱۲ سو سال پہلے اموی شہزادہ عبد الرحمن الداخل دمشق سے روانہ ہوا تو اس کو اسپین تک پہنچنے میں پانچ سال لگ گئے ۔ آج اس قسم کا سفر صرف چند گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے ۔
۱۳ جولائی ۱۹۸۵ء کی صبح کو میں دہلی سے حیدر آباد گیا اور ۱۵ جولائی کی صبح کو دہلی واپس آیا۔ ۱۳ جولائی کو میں جس جہاز سے گیا اسی سے آندھرا پردیش کے گورنر ڈاکٹر شنکر دیال شرما بھی سفر کر رہے تھے۔ وہ نہایت شریف اور سادہ مزاج کے آدمی ہیں۔ اردو بہت اچھی جانتے ہیں۔ اور مسلم تہذیب سے قریب رہے ہیں۔ واپسی کے بعد ان کے نام الرسالہ اردو جاری کر دیا گیا ہے ۔ ۱۳ جولائی کی صبح کو جب میں حیدر آباد جانے کے لیے انڈین ایرلائنز کے جہاز نمبر ۴۰۳ میں بیٹھا تو اچانک مجھے خیال آیا کہ اس وقت میں اگر جہاز کا بیرونی رخ دیکھنا چاہوں تو میں اس کو نہیں دیکھ سکتا ہوائی جہاز جب اپنے دونوں پروں کو پھیلائے ہوئے رن وے پر دوڑتا ہے اور جب وہ زمین سے فضا میں اڑان کرتا ہے تو یہ بڑا عجیب منظر ہوتا ہے ۔ مگر جہاز کے مسافر کے لیے اس کا یہ منظر دیکھنا مقدر نہیں ۔ کوئی شخص بیک وقت جہاز کا سوار اور جہاز کا مشاہد نہیں بن سکتا ۔ اگر کوئی آدمی جہاز کے ان مناظر کو دیکھنا چاہتا ہے تو اس کو جہاز سے باہر آنا پڑے گا ۔
یہی معاملہ وسیع تر معنوں میں دنیا کا بھی ہے ۔ آپ اگر دنیا میں داخل ہو کر اس سے متمتع ہونا چاہتے ہیں تو آپ دنیا کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے ۔ دنیا کی حقیقتوں کو گہرائی کے ساتھ جاننے کے لیے دنیا سے محرومی پر راضی ہونا پڑے گا ۔ یہی بات حضرت مسیح نے ان الفاظ میں فرمائی حیدر آباد میں پروگرام ۱۳ جولائی ۱۹۸۵ ۱۱ بجے صبح اسلامی مرکز حما یت نگر)، گفتگو، سوال و جواب ۵ بجے شام مدینہ ٹکنکل اسکول میں خطاب ” تعمیر ملت “ ۱۴ جولائی ۱۹۸۵ ۱۱ بجے صبح مولانا آزاد انسٹی ٹیوٹ، اسلام اور عصر حاضر ۵ بجے شام مسجد عامرہ ، قرآن خدا کی کتاب حیدر آباد کی مذکورہ چاروں تقریروں کا ٹیپ کئی لوگوں نے لیا، اسلامی مرکز میں بھی ان کا ٹیپ موجود ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues