مذہب کی حقیقت
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۸
کہ تم خدا اور دولت دونوں ایک ساتھ محبت نہیں کر سکتے " اور یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں ارشاد ہوئی ہے کہ۔ ما زهد عبد فی الدنیا الا انبت الله الحكمة فی قلبه وانطق بها لسانه وبصره عيب الدنيا داءها ودواءها)
جہاز جب بلندی پر اڑ رہا تھا تو میں نے کھڑکی سے باہر کی طرف نظر ڈالی۔ اس وقت دیکھنے میں ایسا معلوم ہوا جیسے ہم سمندر کے اوپر اڑ رہے ہوں۔ پانی جیسی ہموار سطح کے درمیان جگہ جگہ سمندر کی جھاگ دار لہروں کا سا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ مگر جلد ہی میری غلط فہمی دور ہو گئی جب مجھے یاد آیا کہ دہلی اور حیدر آباد کے راستہ میں کوئی سمندر نہیں ہے۔ یہ سارا سفر خشکی کے اوپر طے ہوتا ہے۔ یہ دراصل بادل تھے، جہاز چونکہ بادل کے اوپر سے اڑ رہا تھا اس لیے ہمارے نیچے سمندر کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔
کچھ دیر سفر کرنے کے بعد " لہروں " کی اونچائی بڑھنا شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ وہ پہاڑ کی طرح اونچی دکھائی دینے لگیں۔ اس فرق کی سادہ سی وجہ یہ تھی کہ جہاز منزل سے قریب ہونے کی وجہ سے نیچے آنا شروع ہوا۔ جب تک ہم بادل سے دور تھے ، وہ ہم کو سمندر کی لہروں یا کھیتوں کی مینڈ کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔ جب ہم اس کے قریب آگئے تو وہ پہاڑ کی طرح بلند دکھائی دینے لگا۔ اکثر مشاہدات محض اضافی ہوتے ہیں مگر انسان غلطی سے ان کو حقیقی سمجھ لیتا ہے۔ حیدر آباد ایئر پورٹ سے ہمارا قافلہ شہر کے لیے روانہ ہوا تو راستہ میں ایک صاحب نے کہا کہ " گلّی قاسم جان " میں تو آپ سے ملنے کے لیے جانا ایک مسئلہ ہوتا تھا۔ کیوں کہ اطراف کی سڑکوں پر ہر وقت اتنی بھیڑ ہوتی ہے کہ کسی بھی سواری سے سفر کرنا سخت مشکل ہے ، اب نئی دہلی میں مرکز کی موجودہ عمارت کا کیا حال ہے۔ میں نے کہا کہ ہماری موجودہ عمارت کے ساتھ یہ مسئلہ نہیں ہے۔ یہاں کھلی سڑکیں ہیں اور عمارت بھی بالکل پارک کے کنارے سے ہے۔ موصوف مسکرا کر بولے " دہلی کامرکز پارک کے کنارے واقع ہے۔ مگر اس کی حیدر آباد کی شاخ ایسی ہے کہ خود اس کے اندر پارک واقع ہے۔ " حیدر آباد میں قیام مرکز کی شاخ کی عمارت میں تھا جو یہاں ۱۹۸۳ سے قائم ہے۔ مغرب کے وقت ہم لوگ مرکز میں پہنچ گئے ۔ ۱۰ بجے رات تک ملاقاتوں کا سلسلہ رہا۔ کچھ نوجوان ملنے کے لیے آئے جو میرا برابر الرساله پڑھ رہے ہیں۔ ایک نوجوان جو ایم بی اے (M.B.A)
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues