Al-Risala · November 1985 · page 39

ڈیسنٹ کو مقدس مقام دینا

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۳۹

کا کورس کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا "الرسالہ فطرت انسانی کا ترجمان ہے۔ اسی لیے میں اس کو پسند کرتا ہوں ۔ اور اس کی پندرہ کاپی منگا کر اپنے دوستوں اور رشتہ داروں میں پہنچاتا ہوں ۔ کچھ بزرگوں نے کہا کہ الرسالہ میں تنقید نہیں ہونی چاہیے ۔ میں نے کہا کہ تنقید کسی گروہ کے زندہ گروہ ہونے کی سب سے بڑی علامت ہوتی ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے رسول اور اصحاب رسول کے واقعات بتائے کہ وہ لوگ تنقید اور اختلاف کو نہ صرف گوارا کرتے تھے بلکہ پسند کرتے تھے۔ پھر میں نے ایک واقعہ بتایا کہ ایک صاحب یورپ اور امریکہ کے کئی سالہ قیام کے بعد واپس آئے ۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ مغربی قوموں کی ترقی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا :

ڈیسنٹ کو مقدس مقام دینا

حقیقت یہ ہے کہ اختلاف (Dissent) زندگی کی اہم ترین قدر ہے۔ اسلام کی تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں ہیں ۔ مثال کے طور پر جنگ بدر کے لیے " اختلاف " ہی کی وجہ سے زیادہ بہتر میدان کا انتخاب کیا جا سکا۔ ہم کو چاہیے کہ تنقید کو ختم کرنے کے بجائے تنقید کے بارہ میں لوگوں کی غیر ضروری حساسیت کو ختم کرنے کی کوشش کریں ۔

حیدر آباد میں قیام کے درمیان ہر وقت لوگ آتے رہے اور ان سے مختلف دینی ومستی موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ ۱۱فروری کی صبح کو ایک صاحب تشریف لائے ۔ ان کے اندر قومی اور ملی تعمیر کا کافی جذبہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کی کتابیں وغیرہ تو نہیں پڑھی ہیں ۔ تاہم میرے پاس فاضل زمین اور فاضل مکان ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ اس کو لے کر اس کو ملی تعمیر کے کام میں استعمال کریں ۔

میں نے کہا کہ آپ کا جذبہ بہت قابل قدر ہے۔ مگر اتحاد عمل سے پہلے اتحاد خیال ضروری ہے پہلے ہم آپ ایک دوسرے کے ذہن کو سمجھیں۔ اس کے بعد انتشار اثرمل کر کام کریں گے۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں نے بار بار ایک غلطی کی ہے ۔ وہ مسائل (Issues) پر اتفاق کو اتفاق سمجھ لیتے ہیں اور ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جاتے ہیں ، مگر جلد ہی اختلاف رائے پیدا ہوتا ہے اور سب الگ الگ ہو جاتے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues

Printed page