ڈیسنٹ کو مقدس مقام دینا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴۸
دی کس زاویہ نظر سے دیکھتا ہے۔
مصر میں ”فاروق ہٹاؤ“ مہم پر بہت سے لوگ متحد ہو گئے مگر شاہ فاروق کے ہٹنے کے بعد جب ”اسلام لاؤ“ کا سوال آیا تو وہ ٹکرا کر الگ ہو گئے۔ پاکستان میں ”بھٹو کا احتساب“ کے نعرہ پر تمام اسلام پسند متحد ہو گئے۔ مگر بھٹو کے خاتمہ کے بعد اسلام کے نفاذ کا سوال ہوا تو وہ متحد نہ ہو سکے۔ ہندوستان میں فساد کے مسئلہ پر تمام جماعتیں آل انڈیا مجلس مشاورت کے تحت متحد ہو گئیں۔ اس کے بعد ان کے لیڈر ایک دوسرے سے لڑکر الگ ہو گئے۔ مسلم یونیورسٹی کے سلسلے میں مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ :- که این سررشته تعلیم مادر دست ما باشد جدوجہد کے بعد یہ مطالبہ پورا ہو گیا تو اب متحد ہو کر یونیورسٹی کو ترقی دینے کے بجائے وہ آپس میں لڑرہے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اشوز پر اتفاق کافی نہیں ہے۔ اشوز کے ساتھ زاویہ نظر میں بھی اتفاق ہونا لازمی طور پر ضروری ہے ورنہ تعمیر کے بجائے تخریب پیدا ہوگی۔
الرساله کیا ذہن پیدا کر رہا ہے۔ اس کا اندازہ ان چند واقعات سے ہوگا جو اس سفر کے دوران میرے علم میں آئے۔
ایک تاجر باقاعدہ الرسالہ پڑھتے ہیں اور ہماری مطبوعات میں سے بھی اکثر پڑھ چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے یہاں انکم ٹیکس محکمہ کی ریڈ (Raid) ہوئی۔ تاجر طبقہ جانتا ہے کہ ”ریڈ“ کسی تاجر کے لیے کس قدر بھیانک واقعہ ہوتا ہے۔ تاہم تاجر نے بتایا کہ ریڈ کرنے والی ٹیم جب ان کے دفتروں میں گھس گئی تو ان کو بالکل ڈر نہیں معلوم ہوا۔ انھوں نے کہا کہ جو کچھ آپ دیکھنا چاہتے ہیں دیکھ لیں۔ مگر ریڈ کے اس دنیوی واقعہ سے ان کا ذہن آخرت کی طرف مڑ گیا۔ انھوں نے سوچا ”اگر خدا اسی طرح ریڈ کر دے تو میں کیا کروں گا“ ایک صاحب نے اپنے مطالعہ کی روداد بتاتے ہوئے کہا کہ ”میں نے آپ کے یہاں کی مختلف کتابیں پڑھیں۔ پھر میں نے احیاء اسلام پڑھی۔ احیاء اسلام کو پڑھتے ہوئے جب میں اس صفحہ پر پہنچا جہاں آپ نے جنت کا ذکر کیا ہے تو۔ ۔۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے ان کی زبان اچانک بند ہو گئی۔ میں نے دیکھا تو ان کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ اس مجلس میں دوبارہ گفتگو
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues