ڈیسنٹ کو مقدس مقام دینا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴۱
میں ہمیشہ جواب دیتا کہ ہمارا کارخانہ باقاعدہ سرکاری اجازت کے تحت قائم ہے۔ اگر آپ کو اعتراض ہے تو آپ جائیے مقدمہ قائم کیجیے۔ تاہم الرسالہ پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں تبدیلی ہوئی۔ ایک روز میں اپنے کارخانے سے نکلا۔ میرے ایک پڑوسی اپنے گھر کے باہر صحن میں سفید شیروانی پہن کر بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے مجھ کو دیکھ کر بلایا اور کہا کہ آپ میری شیروانی کو دیکھئے۔ آج ہی میں نے یہ دُھلی ہوئی شیروانی پہنی ہے اور وہ آپ کے کارخانے کے دھوئیں سے کالی ہو رہی ہے۔ میں نے ان کی شیروانی پر کوئلہ کی راکھ دیکھی تو اچانک یہ خیال آیا۔ ”اگر میں اپنے پڑوسی کی جگہ پر ہوتا اور اس کے کارخانہ کی چمنی سے میری شیروانی کالی ہو رہی ہوتی تو میں کیا کرتا۔ میرے دل نے کہا کہ مجھے وہی شکایت ہوتی جو میرے پڑوسی کو ہو رہی ہے۔
اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے کارخانہ کو یہاں سے ہٹا دیں گے۔ چنانچہ ہم نے شہر کے باہر صنعتی علاقہ میں ایک بڑی زمین خریدی اور کارخانہ کو شہر سے اس نئے مقام پر منتقل کر دیا۔ پہلے ہمارا کارخانہ ایک ہزار گز زمین پر تھا۔ اب ہمارا کارخانہ پندرہ ہزار گز زمین پر ہے۔ نیز بہت سی سہولتیں جو شہر میں حاصل نہیں تھیں یہاں حاصل ہیں۔ ہم نے پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ ترقی کر لی ہے۔
ایک صنعت کار نے کہا کہ الرسالہ ہر آدمی کے لیے بہترین گائڈ ہے، میں نے اپنی کاروباری زندگی کے کئی مسائل الرسالہ کی تعلیمات کو استعمال کر کے حل کیے ہیں ۔
مرکز میں ایک فلسطینی نوجوان ملاقات اور انٹرویو کے لیے آئے ۔ انھوں نے مختلف سوالات کیے۔ اسلامی مرکز کے مشن کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہمارے نزدیک اصل کام عقیدہ کو زندہ کرنا اور عمل صالح کی روح پیدا کرنا ہے۔ سیاست اور حکومت اضافی چیزیں ہیں نہ کہ حقیقی چیزیں ۔
انھوں نے کہا کہ یہی تصور شیخ حسن البنا کا بھی تھا۔ میں نے کہا کہ پھر شیخ حسن البنا اور الم
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues