ڈیسنٹ کو مقدس مقام دینا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴۲
ان کے ساتھی شاہ فاروق کو اس کے سیاسی تخت سے بے دخل کرنے کی مہم میں کیوں شریک ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ شاہ فاروق مصر میں اسلام کے احیاء کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ اس لیے اس کو ختم کرنا ضروری تھا۔ میں نے کہا، کیا شاہ فاروق کے تخت سے ہٹنے کے بعد مصر میں اسلام کے احیار کی راہ ہموار ہو گئی۔ انھوں نے کہا کہ ظالم اگر ظلم کرے تو کیا اس کا ہاتھ نہ پکڑا جائے ۔ میں نے کہا کہ کیا شیخ اور ان کے ساتھی ظالم کا ہاتھ پکڑنے میں کامیاب ہو گئے ۔
اکثر لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لوگ تضاد میں جیتے ہیں۔ اس لیے وہ کوئی گہرا دینی کام نہیں کر پاتے ۔ ایک طرف وہ دعوت حق کا نام لیتے ہیں، اور دوسری طرف قومی جھگڑوں اور سیاسی ہنگاموں کو اسلامی جہاد قرار دے کر اس میں بھی کو دپڑتے ہیں، حالانکہ اس دنیا میں ایک کام کو کرنے کے لیے دوسرے کام کو چھوڑنا پڑتا ہے ۔ اگر آپ دہلی سے کلکتہ جانا چاہتے ہیں تو دہلی سے امرتسر کی ٹرین آپ کو چھوڑنی پڑے گی ۔ یہ ناممکن ہے کہ آپ قومی جھگڑوں اور سیاسی ہنگاموں کو اسلامی جہاد بتا کر عوام کی لیڈری حاصل کریں۔ اور اسی کے ساتھ آپ کو دعوت الی اللہ اور شہادۃ علی الناس کے کام کی توفیق بھی حاصل ہو ۔ لوگ صرف یہ جانتے ہیں کہ انھیں " کیا کرنا ہے " وہ اس سے بے خبر ہیں کہ انھیں کیا نہیں کرنا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے اقدامات کے باوجود انھیں کوئی حقیقی کامیابی حاصل نہیں ہوتی ۔ وہ کہنے والے کام کی باتیں کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ نہ کرنے والے کام میں اپنے آپ کو الجھا دیتے ہیں ۔ آج سب سے پہلا کام لوگوں کو اس بے شعوری سے نکالنا ہے ۔ اس کے بغیر آگے کا کوئی کام نہیں کیا جا سکتا ۔
اس سے قبل میں تقریباً ڈیڑھ سال پہلے حیدر آباد گیا تھا ۔ اس وقت ۱۱ فروری ۱۹۸۴ کی شام کو اسلامی مرکز کی شاخ حیدر آباد کا افتتاح ہوا تھا۔ جناب سید مکرم شاہ صاحب (چیرمین میونسپل کونسل، آندھرا پردیش) اور جناب سید ہاشم علی صاحب (موجودہ وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) مہمان خصوصی کے طور پر اسٹیج پر موجود تھے ۔ انھوں نے اپنی تقریروں میں مسلمانوں کو نہایت قیمتی مشورے دیئے۔ مرکز کا وسیع لان پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ شہر کا تعلیم یافتہ طبقہ بہت بڑی تعداد میں اس موقع پر جمع ہو گیا تھا۔ اور اس نے آخر تک نہایت توجہ کے ساتھ تقریروں
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues