Al-Risala · November 1985 · page 44

ڈیسنٹ کو مقدس مقام دینا

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴۴

۲۵ اگست ۱۹۸۵ء کو مہینہ کا آخری اتوار تھا۔ حسب معمول مرکز میں ماہانہ درسِ قرآن کا اجتماع ہوا۔ صدر اسلامی مرکز نے "قربانی" سے متعلق آیات کی روشنی میں ایک گھنٹہ کا درس دیا۔ اس اجتماع کی اطلاع اسی دن کے انگریزی اخبارات میں بھی شائع ہو گئی تھی۔ مثلاً ٹائمس آف انڈیا، انڈین ایکسپریس، اسٹیٹمین، نیشنل ہیرلڈ (۲۵ اگست)

مدرسہ باب العلوم (کلکتہ) نے اپنے سالانہ مجلہ کے لیے پیغام کی فرمائش کی تھی۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز نے ان کو ایک پیغام روانہ کیا۔ یہ پیغام زیر نظر اشاعت میں شامل ہے۔

صدر اسلامی مرکز سے ملنے کے لیے روزانہ مرکز میں مختلف قسم کے لوگ آتے ہیں اور ان سے مختلف قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ ۴۔ ۲ ستمبر ۱۹۸۵ء کو ایک ڈاکٹر صاحب ملنے کے لیے آئے جو ایک عرب ملک کے اسپتال میں کام کرتے ہیں۔ انھوں نے پوچھا کہ باہر کے لیے الرسالہ کا سالانہ چندہ کتنا ہے۔ صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ بیرونی ملک کے لیے سالانہ چندہ کی مقدار تو آپ کو نیچے کے دفتر میں الرسالہ کے منیجر صاحب بتائیں گے۔ البتہ اتنی بات میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ آپ الرسالہ کا سالانہ چندہ جمع کریں اور ایک سال تک اس کے بارہ شمارے پڑھیں آخر میں اگر آپ کو یہ احساس ہو کہ الرسالہ اس قابل نہ تھا کہ میں اتنی رقم اس کے لیے خرچ کرتا تو آپ سال کے بارہ شمارے ہمیں واپس بھیج دیں آپ کو آپ کی پوری رقم بغیر کسی کمی کے لوٹا دی جائے گی۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ سن کر کہا: آپ کا مرکز تو بالکل انوکھا مرکز ہے ۔ ایسا تو دنیا کا کوئی بھی پرچہ نہیں کہے گا۔ اللہ کے فضل سے "جدید اسلوب میں اسلامی تعلیمات" اب اسلامی مرکز کی امتیازی صفت بن چکی ہے۔ جو لوگ بھی اس موضوع پر کچھ لکھنا یا بولنا چاہتے ہیں وہ اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں کہ الرسالہ یا ادارہ الرسالہ کی مطبوعات سے مدد لیں۔ وہ مختلف طریقوں سے اس کو استعمال کرتے ہیں اگرچہ قوم میں اعتراف کی نفسیات نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ الرسالہ یا ادارہ الرسالہ کا حوالہ دیے بغیر یہ کام کر رہے ہیں۔ عدم اعتراف کے پردہ میں اس اعتراف کی مثالیں ہر روز کثرت سے سامنے آرہی ہیں۔ مثال کے طور پر تعمیر حیات (لکھنؤ) نے اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues

Printed page