عجیب یادگار
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۶
عجیب یادگار
مسز اندرا گاندھی پہلی بار ۱۹۶۶ میں ہندوستان کی وزیر اعظم بنیں۔ اس وقت ان کی سرکاری رہائش گاہ کے لئے یہ انتظام کیا گیا کہ صفدر جنگ روڈ رتی محلہ کے دو مکانات کو ملا کر ایک بڑا مکان بنا دیا گیا۔ یہ وزیر اعظم اندرا گاندھی کی سرکاری رہائش گاہ تھی ۔ اس رہائش گاہ میں اور اس کے آس پاس بہت دور تک وزیر اعظم کی حفاظت کے لئے انتہائی غیر معمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ مگر ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۴ کو مسز گاندھی کا خاتمہ سادہ طور پر اس طرح ہوا کہ مسز گاندھی کے حفاظتی دستے کے دو آدمیوں ( بینت سنگھ اور ستونت سنگھ) نے انھیں اپنی ہستی کا نشانہ بنا کر ختم کر دیا جو وزیر اعظم کی جان کی حفاظت کے لئے انھیں خصوصی طور پر مہیا کئے گئے تھے۔
صفدر جنگ روڈ کے اس مکان کو اب مسز اندرا گاندھی کی یادگار میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت کے منصوبہ کو بتاتے ہوئے اخباری رپورٹ (ٹمائنس آف انڈیا ۱۰ نومبر ۱۹۸۴) میں یہ الفاظ درج تھے :
--- that the house should be maintained people could come and pay their tributes to the memory of the most powerful woman in the world who died a martyr. حکومت کا خیال ہے کہ اس گھر کو ایک ایسے مقام کی حیثیت سے باقی رکھا جانا چاہئے جہاں لوگ آئیں اور اس خاتون کو خراج عقیدت پیش کریں جو دنیا کی سب سے زیادہ طاقت ور خاتون تھیں اور یہاں ایک شہید کی حیثیت سے مریں۔
مسز اندرا گاندھی انسان کے دو رخ ہیں۔ ایک ان کا ہندوستان کا وزیر اعظم ہونا۔ دوسرا ان کا بے یار و مددگار انسان کی حیثیت سے مارا جانا۔ دونوں کو ملا کر دیکھئے تو مسز اندرا گاندھی کی زندگی کی زندگی کے کمال عجز کی داستان سنارہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں ایک وزیر اعظم بھی اتنا ہی کمزور ہے جتنا ایک معمولی انسان۔ مگر جن لوگوں نے مسز گاندھی کے پہلے رخ کو ان کے دوسرے رخ سے الگ کر کے دیکھا ان کے لئے یہ واقعہ بالکل الٹے مفہوم کا حامل بن گیا۔
کیسی عجیب بات ہے۔ جو واقعہ انسانی عجز کا سبق دے رہا ہے، اس سے نادان لوگ انسانی کبر یائی کا سبق لے رہے ہیں۔ جو واقعہ انسان کے بے طاقت ہونے کا ثبوت ہے اس کو اس بات کی یادگار بنایا جا رہا ہے کہ انسان کس قدر طاقت ور ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues