ڈیسنٹ کو مقدس مقام دینا
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۵، صفحہ ۴۶
کی ایک تقریر قرآن پر پابندی کے سلسلہ میں بہت دھوم کر رہی ہے۔ اس کے بعد جب ”جدید امکانات“ کو میں نے سنا تو میں سکتہ میں رہ گیا کہ یہ بھی ایک طریقہ ہے اور وہ بھی ایک طریقہ تھا۔ وہ طریقہ چندہ پر ختم ہوا اور یہ دینی تبلیغ پر ختم ہوتا ہے (۷ ستمبر ۱۹۸۵)۔ ۹- ایک صاحب بمبئی سے لکھتے ہیں : الرسالہ میں ایک منفر دبات یہ ہے کہ اسے کسی بھی شخص کو خواہ وہ کسی بھی شعبہ کا ہو اور کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو دینے میں ہچکچاہٹ نہیں ہوتی۔ یہ بات کسی اور کتاب میں نہیں ہے ۔ ہمیں کوئی بھی پرچہ دینے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے اور بہت سی جگہ نہ دینے پر گز ارانہ کرنا پڑتا ہے۔ الرسالہ خدا کا خوف ، حضور سے شدید محبت اور ایمان مضبوط کرتا ہے۔ اس کے ذریعہ غصہ ، تکبر، گھمنڈ کم ہوتا ہے اور آخرت کا ڈر اور اسلام کو پھیلانے کا احساس بڑھتا ہے۔ ایک پروفیسر صاحب الرسالہ (انگریزی) پر نظر ڈالتے ہوئے خود بخود کہہ اٹھے ، بے شک بے شک ۔ آج کے دور میں کم خرچ ، کم وقت اور زیادہ مناسب طریقہ پر ہم غیر مسلموں میں اسلام کو ، انگریزی ”الرسالہ کے ذریعے ہی پیش کر سکتے ہیں۔
۱۰- مالیگاؤں سے ایک ندوی عالم لکھتے ہیں : الرسالہ جولائی ۱۹۸۵ موصول ہوا۔ طلاق کا مسئلہ “ پڑھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے میں کسی بے آب و گیاہ صحرا میں آبلہ پا اور خشک دہن پانی کی تلاش میں سرگرداں تھا کہ اچانک کسی نے آب زلال کا ایک چھلکتا ہوا جام میرے سامنے کر دیا ہو۔ یہ بالکل اپنے دلی تاثر کی سچی اور غیر مبالغہ آمیز، نیز غیر عقیدت آمیز ترجمانی ہے۔ فی الواقع یہ مختصر سا مضمون موجودہ مشکلات و مسائل کے ایک نہایت اہم مسئلے کا مثبت اور مدلل جواب ہے جو یقینا بے چین اور تڑپتی ہوئی اور بے چارگی و بے بسی کے احساس سے پیچ و تاب کھاتی ہوئی روحوں کے لیے تسکین کا سامان ہے۔ یعنی نفقہ مطلقہ کے متعلق ہماری عدالت عالیہ کے فیصلہ سے مخلصان اسلام اور دردمندان شریعت کو جو قلبی اذیت و جراحت پہونچی ہے۔ اس کی جلن اور سوزش کا مرہم ہے۔
۱۱- جناب ڈاکٹر اوصاف علی صاحب نے اطلاع دی ہے کہ ”پيغمبر انقلاب کا ترجمہ انڈونیشی زبان میں شائع ہوگیا ہے۔ اس سلسلہ میں ڈاکٹر اوصاف علی صاحب کے خط کا عکس یہاں دیا جار ہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1985 All issues