آگ سے بچاؤ
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۷
آگ سے بچاؤ
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو من استطاع ان یقی وجهه من النار شخص اپنے چہرہ کو آگ سے بچائے تو اس کو چاہئے کہ و لو بشقة من تمرة، فليفعل. و من لم يجد فبكلمة وہ ایسا کرے خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ طيبة فان بها تجزى للحسنة عشرا مثالها یوں نہ ہو۔ اور جو شخص یہ بھی نہ پائے تو وہ ایک پاکیزہ بول کے ذریعہ اپنے آپ کو آگ سے بچائے۔ کیوں کہ انسان کے عمل کا خدا کے یہاں دس گنا بدلہ دیا جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ کھجور کا ٹکڑا یا پاکیزہ بول بذات خود جہنم کی آگ سے بچنے کا سرٹیفکیٹ ہے۔ خدا کے یہاں جو قیمت ہے وہ دراصل اس بے قراری کی ہے جس کے تحت مذکورہ قسم کے اعمال کسی بندہ خدا سے صادر ہوتے ہیں۔
خدا انسان کی اس بے قراری کو دیکھنا چاہتا ہے جب کہ وہ جہنم کے عذاب کو سوچ کر تڑپ اٹھے اور اس سے بچنے کے لئے جو کچھ اس کے بس میں ہے اسے کر ڈالے۔ آدمی کے سامنے ایک ضرورت مند آتا ہے اور اس سے سوال کرتا ہے۔ آدمی کو اس کی بے بسی دیکھ کر آخرت میں اپنی بے بسی یاد آ جاتی ہے۔ شدت احساس سے اس کی آنکھوں سے آنسو کے قطرے ٹپک پڑتے ہیں۔ وہ اپنی جیب کے چند پیسے یہ کہتے ہوئے سائل کو دے دیتا ہے کہ خدایا میرے پاس اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ تو اسی حقیر انفاق کو میرے لئے قبول کرلے اور مجھ کو آخرت کے عذاب سے نجات دے دے۔
اسی طرح ایک اور شخص ہے جس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو وہ اپنے بھائی کو دے۔ مگر جب بھی موقع آتا ہے وہ دوسرے کے حق میں خیر خواہی کا کلمہ بولتا ہے۔ اس کی زبان سے نہ گھنڈ کے الفاظ نکلتے اور نہ حسد کے الفاظ۔ اس کا کلام اللہ کے ڈر سے نہایا ہوا ہوتا ہے۔ ہر موقع پر وہ وہی کہتا ہے جو عدل وانصاف کا تقاضا ہو۔ ایسا انسان بھی دوسروں کو کچھ دے رہا ہے۔ اس سے اس کے بھائیوں کو بہتر جذبات مل رہے ہیں۔ وہ لوگوں کو اپنے شر سے بچائے ہوئے ہے۔ ایسا شخص بھی ان لوگوں میں ہے جس کے لئے آخرت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues