قرآن سے تعلق
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۸
قرآن سے تعلق
امام شافعی (۲۰۴ - ۱۵۰ھ) کو اصول فقہ کا موسس کہا جاتا ہے۔ علم و فضل کے علاوہ وہ دینداری اور تقویٰ میں بھی وہ ممتاز مقام رکھتے تھے۔ امام احمد بن حنبل کا قول ان کے بارہ میں ہے کہ ــــــ میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جس کی نسبت اسلام سے اس درجہ قوی ہو جتنی اپنے زمانہ میں امام شافعی کی تھی۔ امام شافعی کی عمر ابھی دس سال سے بھی کم تھی کہ انھوں نے قرآن کا حفظ مکمل کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ہر تین دن میں قرآن کی ایک تلاوت مکمل کر لیتے تھے۔ ان کو قرآن سے بہت تعلق تھا۔ وہ کوشش کرتے تھے کہ ہر مسئلہ کی اصل قرآن سے معلوم ہو جائے۔
تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ امت کا اجماع دین میں حجت کی حیثیت رکھتا ہے۔ امام شافعی کو تلاش ہوئی کہ اجماع کے حجت ہونے کی دلیل قرآن سے معلوم کریں۔ چنانچہ انھوں نے یہ کیا کہ قرآن کو بار بار پڑھتے اور کوئی ایسی آیت تلاش کرتے جس سے اجماع کا حجت ہونا ثابت ہو سکے۔
کہا جاتا ہے کہ اس کوشش میں امام موصوف نے ۳۰۱ بار پورے قرآن کو پڑھ ڈالا۔ بالآخر انھوں نے اجماع کے حجت ہونے کی دلیل قرآن سے معلوم کر لی۔ ایک روز وہ تلاوت کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ وہ سورہ آل عمران کی آیت ۱۵ ا پر پہنچے تو اچانک ان پر یہ منکشف ہوا کہ اس آیت میں اجماع کے حجت ہونے کی شرعی دلیل موجود ہے۔ وہ آیت یہ ہے:
ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين اور جو شخص رسول کی مخالفت کرے گا بعد اس کے کہ اس له الهدى ويتبع غير سبيل المومنين پر حق ظاہر ہو چکا اور مومنین کا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ چلا تو جو نوله ما تولى ونصل جہنم وساءت کچھ وہ کرتا ہے اس کو ہم کرنے دیں گے اور اس کو جہنم میں مصيرا داخل کریں گے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔
امام شافعی نے اس آیت کو پڑھ کر کہا کہ یہاں سبیل المومنین سے وہی چیز مراد ہے جس کو ہم اجماع امت کہتے ہیں۔
دور اول کے اہل ایمان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر مسئلہ کو قرآن سے معلوم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ خواہ اس کی خاطر انھیں سیکڑوں بار پورا قرآن پڑھناپڑے۔ ان کو اس وقت تک چین نہیں آتا تھا جب تک وہ کسی چیز کے بارہ میں قرآن کا حکم دریافت نہ کر لیں۔ مگر اب لوگوں کا حال یہ ہے کہ قرآن کا استعمال ان کے یہاں یا تو برکت کے لئے ہوتا ہے یا صرف تلاوت کے لئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues