مواقع کا استعمال
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۷
فارجعوا وخلو بين محمد وبين سائر العرب - فان اصابوه فذلك الذي اردتم وان كان غير ذالك الفاكم ولم تعرضوا منه ما تريدون ( سیرت ابن ہشام ، الجزء الثانی ، صفحه ۲۶۳ ) موجودہ دنیا امتحان اور مقابلہ کی دنیا ہے کا کوئی آدمی۔ اس لیے تم لوٹ چلو اور محمد اور عرب قبائل کے درمیان سے ہٹ جاؤ۔ اگر اہل عرب محمد پر غالب آگئے تو یہ وہی ہوگا جو تم چاہتے ہو۔ اور اگر محمد عرب قبائل پر غالب آگئے تو محمد تم کو اس حال میں پائیں گے کہ تم نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی ہوگی تمہاری پوزیشن محفوظ ہوگی)
یہاں یہ ممکن نہیں کہ فریق ثانی کو عین اپنی پسند کی موجودہ دیا امتحان اور مقابلہ کی دنیا ہے ۔ یہاں یہ معین نہیں کہ فریق ثانی کو عین اپنی پسندی شروطوں پر راضی کیا جاسکے ۔ بیشتر حالات میں خود اپنے آپ کو فریق ثانی کی شروطوں پر راضی کرنا پڑتا ہے۔ یہی آدمی کی حکمت اور تدبیر کا امتحان ہے۔ یہاں یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ فریق ثانی کی شروطوں میں کہاں وہ گنجائش ہے جس کو مان کر ہم اپنے لیے مستقبل کی تعمیر کا راستہ نکال سکتے ہیں ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر یہی کیا۔ آپ نے کمال دانش مندی کے ساتھ قریش کے مذکورہ ذہن کو سمجھا اور اس کو انتہائی حکمت کے ساتھ استعمال کیا ۔ چنانچہ حدیبیہ کے مقام پر جب قریش نے آپ کو آگے بڑھنے سے روک دیا، اس وقت آپ نے قریش کو جو پیغام بھیجا اس میں یہ الفاظ بھی اس بات کے تسلیم کرنے میں بھی کوئی قباحت نہیں شامل تھے :
(انالم نحئ لقتاالآحاد ولكن جئنا معتمرین) ہم کسی سے لڑنے کے لیے نہیں آئے ہیں، بلکہ تم اِں قریشاً قد نهكتهم الحرب واضرت بهم فان شاؤا مددتهم مدة ويخلّوا بيني وبين الناس - فان أظهر فإن شاؤا أن يدخلوا فيما دخل فيه الناس فعلوا وإلَّا فقد جمُّوا . ۔
عمرہ کرنے کے لیے آئے ہیں ۔ اور جنگ نے قریش کا بُرا حال کر رکھا ہے اور ان کو سخت نقصان پہچایا ہے ۔ اگر وہ چاہیں تو میں ان کے لیے ایک مدت (صلح کی مقرر کر دوں اور وہ میرے اور دوسرے عرب قبائل کے درمیان سے ہٹ جائیں ۔ اگر میں غالب رہا تو وہ چاہیں تو اس دین میں داخل ہو جائیں گے جس میں لوگ داخل ہوئے ہیں ۔ اور اگر میں غالب نہ ہوا تو ان کا مدعا حاصل ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues