فتوحات کاراز
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۸
فتوحات کاراز
یورپ کے ملک اسپین اور افریقہ کے ملک مراکو کے درمیان ایک سمندری پٹی ہے جس کی چوڑائی بعض مقامات پر صرف 8 میل ہے ۔ یہاں اسپین کی جانب دو ساحلی مقامات کے نام یہ ہیں : طریفہ (Tarifa) اور جبرالٹر (Gibraltar) ۔ یہ دونوں اسپینی شہر دو مسلم سرداروں کے نام پر ہیں جن میں سے ایک کا نام طریف اور دوسرے کا نام طارق تھا ۔ یہ دونوں مسلم سردار ۱۱ء (۹۲ھ) میں مراکو (مراكش) کے راستے سے کشتیوں کے ذریعہ اسپین میں داخل ہوئے ۔
یہ وہ زمانہ تھا جب کہ اسپین میں شاہ لرزریق (King Roderick) کی حکومت تھی ۔ بادشاہ کے مظالم سے بگڑ کر خود اسپین کے لوگوں نے مسلمانوں کو اسپین پر حملہ کرنے کی دعوت دی ۔ چنانچہ مسلمانوں کی فوج جو ابتدا راً اسپین میں داخل ہوئی اس کے ساتھ ایک اسپینی سردار کاؤنٹ جولین (Count Julian) بھی شامل تھا اور مسلمانوں کی رہنمائی کر رہا تھا ۔
انسائیکلو پیڈیا برطانیہ کا (۱۹۸۴) کے مقالہ نگار نے اعتراف کیا ہے کہ ــــ اسپین پر مسلمانوں کا حملہ گاتھ لوگوں کی دعوت کا نتیجہ تھا نہ کہ مسلمانوں کا اپنا اقدام : But the Muslim invasion of Spain was the result of Visi- goth invitation rather than Muslim initiative (17/414). اسپین کے لوگ بادشاہ کے مظالم سے تنگ آچکے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اسپینی باشندوں نے تعجب خیز طور پر طارق ابن زیاد کی رضا کارانہ اطاعت قبول کرلی :
Much to his surprise, many Spaniards submitted to him voluntarily (17/414). انسائیکلو پیڈیا برطانیہ کا کے مقالہ نگار نے مزید لکھا ہے کہ مسلمانوں کی فتح نے اسپینی سماج کے بہت سے عناصر کو فائدہ پہونچایا ۔ ٹیکسوں کا بوجھ مجموعی طور پر اس سے کم سخت ہو گیا جو گاتھ عہد کے آخری برسوں میں اسپین میں تھا ۔ غلام مزدور جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا ان کو آزاد حیثیت حاصل ہوگئی ۔ یہود اب ستائے نہیں جارہے تھے اور انھیں اب دوسرے اسپینی فرقوں کے برابر کا درجہ حاصل ہو گیا ۔ ۱۸
‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues