فتوحات کاراز
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۱۹
حاصل تھا ۔ اس طرح آٹھویں صدی کے نصف اول میں اسپین میں ایک نیا اور بالکل مختلف سماج پیدا ہوگیا ۔
یہاں جو بات اسپین کے مسلم عہد کے بارے میں کہی گئی ہے وہی مسلمانوں کی دوسری فتوحات کے بارے میں بھی صحیح ہے ۔ ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں مسلمان جس طرح دنیا کے بڑے حصے پر چھا گئے اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ ممالک اپنے ملکی حکمرانوں کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے تھے ۔ وہ کسی نئے نجات دہندہ کے انتظار میں تھے ۔ چنانچہ انھوں نے ہر جگہ مسلمانوں کو خوش آمدید کہا ۔ بادشاہوں سے ضرور مسلمانوں کی لڑائیاں ہوئیں مگر ان ملکوں کے عوام کے دل اکثر مقامات پر مسلمانوں کے ساتھ تھے انھوں نے نہایت آسانی سے ہر جگہ مسلمانوں کی اطاعت قبول کرلی ۔
اسپین کا آٹھ سو سالہ مسلم عہد تہذیب کی تاریخ میں انتہائی شاندار عہد تھا ۔ مسلمانوں نے اس دور میں ہر اعتبار سے اعلیٰ ترین مثال قائم کی ۔ کسی عیسائی پر کبھی مذہب کی بنیاد پر ظلم نہیں کیا گیا ۔ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ، اسلام کی خوبیوں سے آگاہ ہو کر آزادانہ طور پر کیا ۔ انصاف کا حال یہ تھا کہ سلطان عبد الرحمن ثانی پر ایک عیسائی نے قاضی کے یہاں دعویٰ دائر کیا اور سلطان کو ایک عام آدمی کی طرح قاضی کی عدالت میں جانا پڑا ۔
مسلمانوں نے تمام ملک میں سڑکوں اور نہروں کا جال بچھا دیا ۔ جگہ جگہ پل بنائے گیے ۔ تعلیم ، تعمیر معدنیات ، زراعت ، باغبانی ، جہاز رانی ، صنعت ، غرض کوئی شعبہ ایسا نہ تھا جس میں انھوں نے اسپین کو غیر معمولی ترقی نہ دی ہو ۔
مگر تعصب اندھا ہوتا ہے ، عیسی لوگ تعصب کی بنا پر مسلمانوں کے دشمن ہو گیے ۔ اس کی قیمت انھیں یہ دینی پڑی کہ اسپین پھر دوبارہ ترقی نہ کر سکا ۔ مسلمانوں کی تاریخ ختم کرنے کی کوشش میں ان کی اپنی تاریخ بھی ختم ہو گئی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues