فتوحات کاراز
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۰
الرسالہ (انگریزی)
الرسالہ (اردو) ۱۹۷۶ میں نکلنا شروع ہوا تھا۔ اس کا انگریزی ایڈیشن فروری ۱۹۸۲ سے نکل رہا ہے اور ہر ماہ پابندی کے ساتھ خریداروں کے پاس پہنچ رہا ہے۔ الرسالہ (انگریزی) کو اللہ کے فضل سے ملک کے اندر اور ملک کے باہر غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اہل زبان انگریزی دانوں نے اس کی زبان کی خوبی کا اعتراف کیا ہے اور اس کے لسانی اور علمی معیار کو سراہا ہے۔ مسلم دنیا میں بہت سے انگریزی رسالے اور اخبارات شائع ہو رہے ہیں۔ بظاہر ان کے نام مختلف ہیں۔ تاہم اگر مضامین کے اعتبار سے ان کا کوئی ایک مشترک نام رکھنا ہو تو وہ پروٹسٹ (احتجاج) ہوگا۔ ان جرائد کو دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ان کے پاس اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف شکایت اور احتجاج کے سوا کوئی اور لکھنے کی چیز نہیں۔ انھوں نے نہ خدا کو پایا جس کی وہ کبریائی بیان کریں۔ ان کو نہ جہنم کی لپیٹیں محسوس ہوئیں جس کی وہ دنیا کو خبر دیں۔ ان کو نہ جنت کے کسی جھونے کا تجربہ ہو جس کو وہ خدا کے بندوں تک پہنچائیں۔ ان کو بس ایک ہی چیز معلوم ہے۔ اور وہ مسلمانوں کے قومی مسائل ہیں اور وہ انھیں کو دہراتے رہتے ہیں۔
مسلمانوں کے جرائد ساری دنیا میں ایک قسم کا احتجاج نامہ بن کر رہ گئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک عام انسان کو اس میں پڑھنے کی کوئی چیز ملتی ہی نہیں۔ عام انسان جو اپنی فطرت کے زور پر سچائی کی تلاش میں ہے اس کو مسلمانوں کی قومی چیخ پکار سے کیا تعلق۔ نتیجہ یہ ہے کہ بظاہر اگرچہ مسلمانوں کے بہت سے انگریزی جرائد ساری دنیا میں نکل رہے ہیں مگر دین حق کے تعارف کے اعتبار سے ان کی کوئی افادیت نہیں۔ الرسالہ (انگریزی) مسلم دنیا میں غالباً پہلا رسالہ ہے جو لوگوں کے سامنے اسلام کا مثبت تعارف پیش کرتا ہے جو احتجاج اور شکایت سے بلند ہو کر انسان کو برتر سچائیوں کی طرف بلاتا ہے۔ جو انسان کی ابدی فطرت کا ترجمان ہے نہ کہ کسی قوم کے وقتی مسائل کا ترجمان۔
ایسے ایک پر چہ کا وجود میں آنا آپ پر زبردست ذمہ داری ڈالتا ہے۔ وہ یہ کہ آپ اس کے ساتھ تعاون کریں۔ آپ اس کی ایجنسی لیں۔ آپ لوگوں کو اس کا خریدار بنائیں۔ اس کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لئے آپ اپنی ساری طاقت لگا دیں۔
منیجر الرسالہ (انگریزی)
‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues