والدہ کا انتقال
الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۱
والدہ کا انتقال
۷ اکتوبر ۱۹۸۵ کو میری والدہ زیب النسا کا انتقال ہو گیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے موت کے لمححات کو اپنی آنکھ سے دیکھا ۔
میرے والد جناب فرید الدین خاں صاحب کا انتقال ۴ دسمبر ۱۹۲۹ کو ہوا تھا ۔ اس وقت میری عمر صرف پانچ سال تھی ۔ والد مرحوم کے انتقال کے ۵۵ سال بعد میری والدہ کا انتقال ہوا۔ اپنی تقریباً سو سال عمر کا بیشتر حصہ انھوں نے میرے بڑے بھائی عبدالعزیز خاں صاحب (چیرمین لائٹ اینڈ کمپنی لمیٹڈ، الہ آباد) اور میرے چھوٹے بھائی عبدالمحیط خاں (جوائنٹ ڈائریکٹر ٹیکنکل ایجوکیشن - یوپی) کے ساتھ گزارا۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ آخری ڈیڑھ سال وہ میرے ساتھ دہلی میں رہیں۔
والدہ کو مجھ سے بہت زیادہ تعلق تھا۔ غالباً اپنے بچوں میں وہ مجھ کو سب سے زیادہ مانتی تھیں۔ اکثر اپنا ایک خواب بڑے شوق سے بیان کرتی تھیں۔ جب میں پیٹ میں تھا تو آخری دنوں میں والدہ نے رات کو خواب دیکھا کہ میری پیدائش ہوئی ہے ۔ اس کے بعد ہی ایک بڑا سا ہاتھی آتا ہے ۔ وہ مجھ کو سونڈ سے اٹھا کر اپنی پیٹھ پر رکھتا ہے اور مجھ کو لے کر چلا جاتا ہے ۔ والدہ خواب میں کہہ رہی ہیں ـــ " دیکھو اتنا اچھا لڑکا تھا اس کو ہاتھی اٹھا لے گیا " اسی رات کے بعد آنے والی صبح کو میری پیدائش ہوئی ۔ والدہ یہ خواب بیان کر کے مسکراتیں اور کہتیں کہ پتہ نہیں اس خواب کا کیا مطلب ہے" والدہ معمولی پڑھی ہوئی تھیں ۔ تاہم ان کو میرے کام سے بہت گہرا قلبی تعلق تھا۔ وہ رسالہ پڑھو اکر سنتیں اور دعا دیتیں ۔ الرسالہ کیسٹ بن کر آیا تو اس کو بھی منگو اکر سنا اور اس کو سن کر بہت خوش ہوتیں ۔
۲۹ نومبر ۱۹۸۸ کو میں نے دہلی میں خواب دیکھا تھا کہ ایک بڑی سی ٹوکری ہے۔ میں نے اس میں مختلف قسم کے پھل کاٹ کاٹ کر رکھے ۔ اس کے بعد لوگ کھانے کے لیے جمع ہوئے ۔ یہ سب زیادہ تر میرے اپنے خاندان کے لوگ ہیں اور والدہ بھی ان کے ساتھ موجود ہیں۔ پھلوں کی ٹوکری درمیان میں رکھی ہے اور کنارے کنارے لوگ بیٹھ کر کھا رہے ہیں ۔ اس درمیان میں والدہ نے پھلوں کی ٹوکری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا :
‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues