Al-Risala · December 1985 · page 23

والدہ کا انتقال

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۳

تم لوگوں کو ایک طرفہ طور پر برداشت کرنا لہے ۔ وہ خواہ کچھ بھی کہیں ، مگر تم لوگوں کو کچھ بھی نہیں بولتا ہے ۔ سب نے مل کر عہد کیا کہ وہ ایسا ہی کریں گے ۔

اس کے بعد میں نے اہلیہ اور اپنے لڑکے ثانی اتنین کو گونڈہ بھیجا جہاں والدہ اس وقت میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ مقیم تھیں ۔ وہ لوگ والدہ کے راحت و آرام کا پورا لحاظ کرتے ہوئے ان کو نہایت اہتمام کے ساتھ دہلی لے آئے ۔ اس طرح وہ ۸ مئی ۱۹۸۴ء کو گونڈہ سے دہلی آئیں اور ڈیڑھ سال بعد ۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء کو اس دنیا سے چلی گئیں ۔

عجیب بات ہے کہ ۱۹۸۰ء کے آغاز میں میں نے والدہ کے بارہ میں ایک خواب دیکھا تھا جو میری ڈائری میں نوٹ ہے۔ میں نے دیکھا کہ قیامت کا میدان ہے اور میں والدہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں لے جارہا ہوں ۔ ہمارے آگے آگے روشنی ہے ۔ اس خواب کا مطلب غالباً یہی تھا کہ والدہ کا آخری سفر میرے یہاں سے ہوگا اور میں ان کے جسد خاکی کو اٹھا کر قبر کی طرف لے جاؤں گا۔ جو گویا اگلی دنیا میں داخلہ کا دروازہ ہے ۔

والدہ کے دہلی آنے سے پہلے میں اکثر ان کو خواب میں دیکھتا تھا ۔ یہ شاید قدرت کی طرف سے اشارہ تھا کہ مجھے ان کو دہلی لانا چاہیے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ایسے حالات پیدا کیے کہ میں ان کو دہلی لاسکا ۔ ان کو مجھ سے خصوصی تعلق تھا۔ وفات کے بعد بھی کئی بار ایسا ہوا کہ مجھے بالکل والدہ کی محبت بھری آواز میں سنائی دیا " وحید " میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ میرے اپنے ذہن کا ٹیپ بج رہا تھا یا والدہ کی روح مجھے پکارتی ہے ۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے ۔

والدہ نہایت مضبوط اعصاب کی خاتون تھیں ۔ وہ جس مجلس میں رہتیں اپنے قوت کلام سے چھا جاتیں ۔ آخر عمر میں اگرچہ ان کو بعض بیماریاں لاحق ہوگئی تھیں ، مگر ان کے اکثر اعضا رکان، آنکھ، حافظہ، وغیرہ خدا کے فضل سے آخر وقت تک محفوظ تھے۔ ان کا معدہ بھی کافی حد تک درست تھا۔ اپنی اکثر ضروریات وہ خود سے پوری کر لیتی تھیں ۔

والدہ میرے پاس نہایت خوش تھیں ۔ ذاتی طور پر مجھ سے انھیں کبھی کوئی شکایت نہیں ہوئی ۔ میرے بارہ میں وہ کہا کرتی تھیں کہ تمہارا مزاج بچپن سے نہایت عجیب تھا۔ مثلاً میں نے والدہ سے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues

Printed page