فطرت کی تلاش
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۹
فطرت کی تلاش
ایک آدمی جس کے پاس دولت اور اقتدار ہو اس کے گرد پر رونق سازوسامان جمع رہتے ہیں۔ باہر سے دیکھنے والوں کو وہ اپنے سے مختلف بڑی چیز دکھائی دیتا ہے مگر خود اس کا حال اس کے برعکس ہوتا ہے۔ وہ جب اپنی تنہائیوں میں جاتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ بھی ویسا ہی ایک کمزور انسان ہے جیسا کہ دوسرے انسان۔
امریکہ کی مشہور فورڈ کمپنی کے موجودہ وارث مسٹر الفریڈ فورڈ (۳۳) بے پناہ دولت کے مالک ہیں۔ مگر ان کی روح کو تسلی اور چیز پانے کے لئے بے چین تھی۔ اس دوران ان کا تعارف ہرے کرشنا موومنٹ سے ہوا جس کے مراکز امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں میں موجود ہیں۔ انھوں نے محسوس کیا کہ ان کی روح یہاں تسکین پا سکتی ہے۔ وہ اس میں شریک ہو گئے۔ مسٹر فورڈ نے ۲۷ دسمبر ۱۹۸۴ کو کرشنا موومنٹ کی ہندو لڑکی شرمیلا بھٹا چاریہ (۳۹) سے شادی کرلی۔ شادی کی یہ رسم ہرے کرشنا موومنٹ کے آسٹریلیا کے ایک مرکز میں انجام پائی۔ ٹائمس آف انڈیا (یکم جنوری ۱۹۸۵) کی ایک تصویر میں مسٹر فورڈ سادھوؤں جیسے بغیر سلے ہوئے کپڑے میں ملبوس نظر آتے ہیں۔ اے پی کے نامہ نگار نے اس سلسلہ میں جور پورٹ دی ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے:
Mr. Alfred Ford said he was only a Ford by name. "I'm not a car. I'm a spiritual soul, just like anyone else," he said. مسٹر فورڈ نے کہا کہ وہ بس نام کے اعتبار سے فورڈ ہیں۔ "میں ایک کار نہیں ہوں۔ میں ایک روحانی وجود ہوں ویسے ہی جیسے کہ کوئی دوسرا شخص (ہندوستان ٹائمس ۲۸ دسمبر ۱۹۸۴)
کسی آدمی کو دولت اور اقتدار کی خواہ کتنی ہی بڑی مقدار حاصل ہو جائے، وہ اس کی ہستی کا جزو نہیں بنتی۔ سازوسامان کے ہجوم میں وہ اپنے آپ کو اکیلا اور بے سہارا محسوس کرتا ہے۔ اس کے باوجود وہ کسی ایسی چیز کی تلاش میں رہتا ہے جو اس کی ہستی میں شامل ہو جائے۔ جس کو وہ اپنے داخلی وجود کی سطح پر اپنا بنا سکے۔ اس تلاش کا جواب صرف وہ کامل اور برتر خدا ہے جو انسان کا خالق اور مالک ہے۔ مگر انسان جب حقیقی خدا کو نہیں پاتا تو وہ غیر خدا میں مشغول ہو جاتا ہے تاکہ وہ مصنوعی طور پر اپنے اس مطلوب کو حاصل کر سکے جس کو وہ حقیقی طور پر نہ پا سکا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues