Al-Risala · December 1985 · page 27

تقریر حضرت مولانا اظہار الحسن صاحب

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۷

مولانا اظہار الحسن صاحب قبلہ کا مزاج تقریر وغیرہ کا نہیں ہے۔ یہ ان کے معمول کے لحاظ سے ایک خلاف توقع بات تھی ۔ حتی کہ وہ مسجد اور مدرسہ سے باہر بھی بہت کم جاتے ہیں۔ تاہم حضرت مولانا کی یہ تقریر اس موقع پر بے حد مؤثر ثابت ہوئی۔ گویا کہ ماحول چارج ہو گیا۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا کہ لوگ اس حقیقی کیفیت کے ساتھ نمازِ جنازہ ادا کر رہے ہیں جیسا کہ فی الواقع ادا کرنا چاہیے۔ مولانا اظہار الحسن صاحب کے بروقت کلمات نے نماز جنازہ کو واقعی نماز جنازہ بنا دیا۔ والد کے انتقال کے وقت والدہ کی عمر زیادہ نہیں تھی۔ والد کے بعد بھی وہ ۵۵ سال تک زندہ رہیں، تاہم انھوں نے صرف بچوں کے خیال سے دوسری شادی نہیں کی۔ غالباً یہی وہ وجہ تھی جس کی بنا پر والدہ کے مزاج میں کسی قدر سختی اور جھنجھلاہٹ آگئی تھی۔ چنانچہ بعض اوقات لوگوں کو ان سے شکایت ہو جاتی تھی ۔ مگر ان کا باطن بہت صاف و شفاف تھا۔ وہ نہ صرف نماز روزہ کی سختی سے پابند تھیں بلکہ دل کے اعتبار سے پورے معنوں میں مومنہ اور مسلمہ تھیں انھوں نے جان بوجھ کر کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی اور نہ کبھی جان بوجھ کر کسی کی بدخواہی کی ۔

والدہ کا ایک مزاج یہ تھا کہ وہ اپنا کام ہمیشہ خود کرنا پسند کرتی تھیں ۔ جب وہ تندرست اور طاقتور تھیں تو بڑے بڑے کام بھی تنہا کر ڈالتی تھیں ۔ بعد کو جب وہ کمزور ہو گئیں اس وقت بھی ان کا یہ مزاج باقی رہا۔ ہم لوگ بہت کہتے کہ آپ کو جو کام یا ضرورت ہو اس کے لیے کہہ دیا کریں ۔ مگر بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ وہ اپنے کسی کام کے لیے دوسرے سے کہیں ۔ اسی مزاج کی وجہ سے بڑھاپے کی عمر میں کئی بار ایسا ہوا کہ وہ کسی کام کے لیے اٹھیں اور پھر گر پڑیں۔ پھر بھی ان کا یہ مزاج آخر عمر تک باقی رہا۔ والدہ کی محبوب دعاؤਂ میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اٹھ اٹھیں چلتی پھرتی حالت میں اٹھائے۔ ان کی یہ دعا بھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ۔ آخری چند دن کے سوا وہ اپنا سب کام خود کرتی رہیں ۔ آخر میں اگرچہ وہ پاؤں سے چلنے سے معذور ہو گئی تھیں ۔ مگر وہ کسی نہ کسی طرح اپنا ہر کام کر ڈالتی تھیں ۔ والدہ کے اندر خود غرضی اور مادہ پرستی بالکل نہیں تھی ۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی خدمت کرنے کے لیے تیار رہتی تھیں۔ ان کا ایک محبوب طریقہ یہ تھا کہ غریب اور یتیم لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے یہاں رکھ کر پرورش کرتیں اور اگر ممکن ہوتا تو ان کی شادی بھی کرا دیتیں ۔ پڑوس کے ایک شخص جوان کے یہاں

‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues

Printed page