Al-Risala · December 1985 · page 28

تقریر حضرت مولانا اظہار الحسن صاحب

الرسالہ، دسمبر ۱۹۸۵، صفحہ ۲۸

بطور باورچی کام کرتے تھے، ان کو انھوں نے اپنے گھر کے وسیع صحن کا بڑا حصہ صرف اس لیے دے دیا کہ وہ اپنے گھر کی توسیع کر سکیں۔

والدہ کے میکے کے لوگ بڑے زمیندار تھے۔ وہاں کی زمیندار ی میں ان کا تقریباً ۳۰ بیگھہ (پختہ) حصہ ہوتا تھا۔ مگر والدہ نے بطور خود اپنا حصہ چھوڑ دیا اور دست برداری کے کاغذ پر اپنی رضامندی سے دستخط کر دیئے۔ وغیرہ وغیرہ والدہ کی زبان پر سب سے زیادہ جو جملہ رہتا تھا وہ یہ تھا کہ " اللہ آخرت میں ٹھکانا دے ! " وہ اکثر گہرے تاثر کے ساتھ اس دعائیہ جملہ کو دہراتی رہتی تھیں۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالی نے ان کے دل کی یہ پکار سن لی اور ان کی نیک نفسی کی بنا پر انھیں آخرت میں اچھا ٹھکانا دیا۔ ان کے تمام آخری رسوم نہایت بہتر طور پر انجام پائے۔ ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ ان دنوں بارش کا زمانہ تھا۔ روزانہ بارش کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ مگر ۸ اکتوبر کو بارش رُکی رہی۔ حالاں کہ ۴ اکتوبر سے پہلے بھی بارش جاری تھی، اور ۸ اکتوبر کے بعد بھی بارش جاری رہی۔ مجھے بعد کو معلوم ہوا کہ والدہ کے انتقال کی خبر سننے کے بعد تبلیغی مرکز (نظام الدین نئی دہلی) میں ان کے لیے اجتماعی دعا کی گئی۔ اسی طرح اور بعض مساجد اور مدارس میں ان کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں ۔

یہاں ایک خواب قابلِ ذکر ہے جو میری ڈائری میں ۲۸ مارچ ۱۹۷۷ء کی تاریخ کے ساتھ درج ہے ۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ والدہ اس دنیا سے رخصت ہو کر آسمان کی طرف لے جائی جا رہی ہیں۔ وہ اوپر پہنچ ہی ہیں تو ایک مقام آیا جہاں ایک سرنگ نما بالکل اندھیرا راستہ تھا۔ اس وقت والدہ کے بارہ میں اوپر سے آواز آئی کہ :

ان کو دوسری طرف دروازہ نور پر لے جاؤ، ان کو وہاں سے داخلہ ملے گا یہ خواب جو میں نے ۱۹۷۷ء میں دیکھا تھا وہ گویا میرے لیے ایک پیشگی بشارت تھی کہ تمہاری والدہ کو موت کے بعد والی دنیا میں تو پرانی گھر میں جگہ ملنے والی ہے ۔ خدایا تو میری والدہ پر اپنے نور کی بارش فرما، ان کو جنت کے اعلیٰ مقامات میں جگہ دے، اور ہم سب کو اپنی رحمتِ خاص سے بخش دے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1985 All issues

Printed page