Al-Risala · February 1985 · page 10

ہوشیار رہئے

الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۱۰

ہوشیار رہئے

حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں ۲۰ ھ میں مصر فتح ہوا۔ چار ہزار کے جس لشکر نے مصر کو فتح کیا اس کے سردار اعلیٰ حضرت عمرو بن العاص تھے۔

فتح مصر کے سلسلے میں جو واقعات تاریخ کی کتابوں میں آئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ انھوں نے فتح کے بعد مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کچھ نصیحتیں کیں۔ ان میں سے ایک نصیحت یہ تھی: انتم فی رباط دائم تمھیں ہر وقت تیار رہنا ہے حضرت عمرو بن العاص نے بظاہر یہ بات اس وقت کے سیاسی حالات کے پس منظر میں کہی تھی۔ اس وقت کی رومی اور ایرانی حکومتیں ابھی اپنی شکست کو ہضم نہیں کر سکی تھیں۔ ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ وہ کوئی موقع پا کر مسلم علاقہ پر چڑھائی کر دیں اور مسلمانوں کی فتح کو دوبارہ شکست میں تبدیل کر دیں۔ تاہم یہ نصیحت صرف وقتی نہیں۔ اس میں زندگی کی ایک ابدی حقیقت بیان ہو گئی ہے۔ وہ یہ کہ یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں جس طرح نیکوں کو عمل کرنے کا موقع ہے اسی طرح برے انسانوں کی رسی بھی دراز ہے۔ یہاں جس طرح فرشتے آزاد ہیں اسی طرح شیطان کو بھی یہاں پوری آزادی حاصل ہے۔ اس لئے مومن کو ہر وقت اپنے کو دشمن کے محاذ پر محسوس کرنا چاہئے۔ مومن کو ہر وقت اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے تاکہ اس کا نفس شرارت نہ کر سکے۔ اس کو ہر وقت شیطان کی راہوں کو دیکھتے رہنا ہے کہ وہ کسی طرف سے اس کے اندر گھس نہ آئے۔ اس کو خدا کے دشمنوں سے ہر آن چوکنار ہنا ہے کہ وہ اس کی کسی غفلت سے فائدہ اٹھا کر اسے مغلوب نہ کر لیں۔

دنیا میں آدمی کو چوکسید ار کی زندگی گزارنی ہے۔ اپنی چوکیداری بھی اور خدا کے دین کی چوکیداری بھی اس کا بدلہ اس کو آخرت میں یہ ملے گا کہ وہاں ہر قسم کے غم اور اندیشہ سے آزاد ہو کر وہ جنت کے باغوں میں داخل کر دیا جائے گا، تاکہ ابدی طور پر عیش و راحت کی زندگی گزارتا رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues

Printed page