بے آمیز دین
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۷
بے آمیز دین
حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سورہ ہود اور اس جیسی سورتوں نے مجھ کو بوڑھا کر دیا ( شیبتنی ھود و اخواتھا ) سورہ ہود مکی دور کے آخر میں نازل ہوئی ہے ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا :
فاستقم كما امرت ومن تاب معك ولا تطغوا انه بما تعملون بصير ۔ ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار وما لكم من دون الله من اولياء ثم لا تنصرون ( هود ۱۳-۱۱۲ ) پس تو سیدھا رہ جس طرح تجھ کو حکم ہوا ہے اور وہ لوگ بھی جنہوں نے توبہ کی ہے تمہارے ساتھ ، بے شک وہ دیکھتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو۔ اور ان کی طرف نہ جھکو جو ظالم ہیں ورنہ تم کو آگ پکڑ لے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہیں پھر تم کہیں مدد نہ پاؤ گے۔
یہی بات سورہ بنی اسرائیل میں بھی ہے جو خود بھی مکی دور کے آخر میں نازل ہوئی ۔ وإن كادو ليفتنونك عن الذى أ وحينا اليك لتفترى علينا غيره واذا لا تخذوك خليلا ولو لا ان ثبتنك لقد كدت تركن اليهم شيئاً قليلا اذا لاذقنـٰك ضعف الحيوة وضعف الممات ثم لا تجد لك علينا نصيراً (بنى اسرائیل ۷۵)
اور قریب تھا کہ وہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اس چیز سے ہٹا دیں جو ہم نے تم پر وحی کی ہے، تاکہ تم اس سے مختلف ہم پر جھوٹ لگا کر پیش کرو اور اگر تم ایسا کرتے تو وہ تم کو اپنا دوست بنا لیتے۔ اور اگر ہم نے تم کو جمائے نہ رکھا ہوتا تو قریب تھا کہ تم ان کی طرف کچھ جھک پڑو۔ تب ہم تم کو ضرور چکھاتے دو نا عذاب زندگی میں اور دو نا عذاب مرنے میں پھر تم ہمارے مقابلہ میں اپنا کوئی مددگار نہ پاتے۔
وہ کیا چیز تھی جس نے آپ کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا۔ وہ ہے بے آمیز دین پیش کرنے کا حکم۔ لوگ چونکہ ہمیشہ ملاوٹی دین پر ہوتے ہیں اس لئے ایسی دعوت میں ہر ایک اپنے کو بے جگہ ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر ایک اس کا مخالف بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ملاوٹی دین کا داعی بننا سب سے زیادہ آسان کام ہے اور بے آمیز دین کا داعی بننا سب سے زیادہ مشکل کام۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues