اداره الرساله
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۳۱
مسلمانوں کے باہمی اختلاف کے نتیجہ میں مسیحی دوبارہ اسپین میں غالب آگئے تو انھوں نے چاہا کہ اسپین سے اسلامی تاریخ کو بالکل مٹا دیں۔ انھوں نے زیرِ دست مظالم کئے چنانچہ مجبور ہو کر یہاں کے مسلمان یا تو ملک چھوڑ کر بھاگ گئے یا دوبارہ مسیحی بن گئے۔
مراکوس فرانسیسی ۱۹۰۱ء میں داخل ہوئے۔ انھوں نے ۱۹۱۲ء تک مراکیر پر باقاعدہ قبضہ کر لیا۔ اسی دوران اسپینی بھی مراکو کے اس حصہ میں داخل ہوگئے جو ان کے قریب سمندر کی دوسری طرف تھا۔ تاہم ۱۹۵۶ء میں فرانس اور اسپین دونوں سلطان کے حق میں اپنے اقتدار سے دست بردار ہوگئے۔ اب مراکو مکمل طور پر ایک آزاد ملک ہے۔
راقم الحروف نے مراکش (مراکو) کا نام سب سے پہلے بچپن میں شبلی نعمانی کی نظموں کے ذریعہ سنا تھا۔ پہلی جنگِ عظیم میں مراکش پر مغربی قوموں کا قبضہ ہوگیا تو شبلی نعمانی نے ایک نظم میں کہا تھا: مراکش جا چکا فارس گیا اب دیکھنا یہ ہے کہ جتیلا ہے یہ ترکی کا مریض سخت جاں کب تک مراکش (مراکو) اور فارس (ایران) اگرچہ آج مغربی اقوام کے سیاسی قبضہ سے آزاد ہو چکے ہیں۔ مگر یہ کہنا مشکل ہے کہ انھوں نے مغربی تہذیب کے قبضہ سے نکلنے میں بھی کامیابی حاصل کر لی ہے۔
مراکش (رتبشدید المرر) یہاں کا ایک قدیم شہر ہے۔ یورپی لوگ اکثر اسی نام کی نسبت سے یہاں کی حکومت کو حکومت مراکش کہتے تھے۔ اس طرح مراکش پورے ملک کے لئے بھی بولا جانے لگا۔ یہی لفظ بعد کو خود اور یورپیوں کے اثر سے بگڑ کر اکو (Morocco) بن گیا۔ مراکو در اصل مارکس کی بدلی ہوئی مغربی شکل ہے۔ مراکو ہی وہ ملک ہے جہاں سے گزر کر مسلمان یورپ میں داخل ہوئے تھے۔
۲۲۴ نومبر ۱۹۸۴ء کو صبح سویرے ایر انڈیا (Air India) کے ذریعہ دہلی سے روم کے لئے روانگی ہوئی۔ ہوائی جہاز کی ایجاد نے موجودہ زمانہ میں دور دراز مقامات کے سفر کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ مگر خود ہوائی کمپنی کے لئے یہ صنعت براہ راست نفع بخش نہیں۔ بالواسطہ نفع کی بنیاد پر آج تقریبا تمام ملکوں نے اپنی ہوائی کمپنیاں قائم کر رکھی ہیں۔ مگر اکثر ہوائی کمپنیاں خسارہ پر چل رہی ہیں۔ اس کی ایک خاص وجہ ہوائی مسافروں کی کمی ہے۔ چنانچہ اکثر جہاز اپنی وسعت سے کم مسافر لے کر چلتے ہیں۔ اس سے مستثنی صرف وہ ہوائی جہاز ہیں جو خلیج کے مسافروں کو لے کر چلتے ہیں۔ کیوں کہ اس علاقہ میں پچھلے برسوں میں سفر بہت بڑھ گیا ہے۔ جہاز کے اندر مختلف اخبار اور رسائل پڑھنے کو ملے۔ ٹائم میگزین (۱۹ نومبر ۱۹۸۴) کو الیکشن اسپیشل کے طور پر چھاپا گیا ہے۔ اس میں بہت سی دل چسپ باتیں تھیں صفحہ ۴۹ پر امریکہ کی لیے ممرا نڈیل (Mondale) کا ایک قول درج تھا:
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues