اداره الرساله
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۲۳
ہو کر زمین پر چلنے لگتا جتنا عجیب ہے اتنا ہی عجیب یہ بھی ہے کہ بے حرکت مادہ ایسی سواریوں میں تبدیل ہو جائے جو دوڑتی ہیں، جو اڑتی ہیں۔ جو تیز رفتاری کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کو بھی وہی خدا چلا رہا ہے جس نے موسیٰ کے عصا کو چلایا تھا۔
اس حقیقت کی طرف خود قرآن میں اشارہ موجود ہے۔ حضرت موسیٰ کے عصا کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ ہیں کہ : فاذ اھی حية تسعی اور عام چیزوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ يخرج الحیٰ من المیت ان دونوں آیتوں کے الفاظ الگ الگ ہیں۔ مگر دونوں آیتیں ایک ہی حقیقت کو بتا رہی ہیں۔ روزمرہ کے مشاہدہ میں مادہ کا زندہ چیز بن کر چلنے لگنا بھی اسی خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے جس کے حکم سے ایک لاٹھی سانپ بن کر چلنے لگی تھی۔
روم میں چند گھنٹے قیام کے بعد ایر مراک ( ۹۵۵) کے ذریعہ آگے کے لئے روانگی ہوئی. بشام کو میں کیسا بلانکا پہنچا ۔ یہ مراکو کا سب سے بڑا شہر ہے. اس کا کچھ حصہ پرانے وضع کا ہے اور کچھ جدید وضع پر بنایا گیا ہے. یہ اس ملک کا تجارتی مرکز ہے۔ بیرونی ملکوں کے لوگ کثرت سے یہاں آتے ہیں، تجارت کے لئے بھی اور سیاحت کے لئے بھی۔
کیسا بلانکا اٹلانٹک کے عین ساحل پر واقع ہے۔ اس کا قدیم عربی نام الدار البيضاء ہے۔ مغربی استعمار کے زمانہ میں وہ کیسا بلانکا (Casablanca) کے نام سے مشہور ہوا۔ دونوں لفظوں کے ایک ہی معنی ہیں ۔ یعنی سفید گھر۔ الدار البيضاء عربی لفظ ہے اور کیسا بلانکا اسی کا ہسپانی مترادف ہے۔ کیسا بلانکا میں میرا قیام ہوٹل سفیر (روم ۱۲۰۷ میں تھا۔ یہ ہوٹل اٹلانٹک کے ساحل کے قریب ہے۔ یہاں سے اٹلانٹک کی موجیں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ جب اس پر نظر پڑی تو یہ سوچ کر میری عجیب کیفیت ہوئی کہ یہی وہ سمندر ہے جس کے دوسری طرف کھڑے ہو کر طارق بن زیاد نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا: البحر وراءكم والعدو امامكم (سمندر تمہارے پیچھے ہے اور دشمن تمہارے آگے ہے) پھر یہیں سے گزر کر طارق بن زیاد اسپین میں داخل ہوا اور یورپ میں اسلام کی تاریخ کا آغاز کیا۔ اگرچہ مسلمانوں کے باہمی اختلافات کی وجہ سے یہ پیش قدمی زیادہ دور تک نہیں پہنچ سکی۔ تاہم یہ تاریخ مسلمانوں کو بہت بڑا سبق دے رہی ہے۔ یہ کہ انہیں کیا کرنا چاہئے اور یہ بھی کہ انہیں کیا نہیں کرنا چاہئے تاکہ ان کی قوتیں اسباب کی اس دنیا میں بے نتیجہ ہو کر نہ رہ جائیں۔
۲۵ نومبر کو میں ہوٹل کے باہر کی سڑک پر ٹہل رہا تھا کہ پریس کے ایک آدمی سے ملاقات ہوئی، اس نے عربی میں بات شروع کی۔ مجھے اس کے لہجہ کو سمجھنے میں دقت پیش آئی۔ میں نے اس سے اپنا کلام دہرانے کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues