اداره الرساله
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۳۴
لئے کہا۔ وہ ہنستے ہوئے بولا کہ یہ تو ہم فصیح عربی زبان میں بولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ہم مراکو کے لہجہ میں عربی بولیں تو وہ آپ بالکل نہیں سمجھ سکیں گے۔ اس کے بعد وہ مراکو کے لہجہ میں بولنے لگا تو مجھے ایسا معلوم ہو گیا وہ عربی کے علاوہ کوئی اور زبان بول رہا ہے۔
حضرت علی کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف عرب قبائل سے ان کی اپنی بولی میں گفتگو کرتے تھے اور ہم اس کو بالکل سمجھ نہیں پاتے تھے۔ یہ صورت حال اسی لہجہ کے فرق سے پیدا ہوتی تھی۔ لہجہ کا فرق سننے والے کے لئے ایک زبان کو ایسی زبان بنا دیتا ہے جیسے وہ کوئی دوسری زبان ہو۔ ہندوستان میں میں پچھم کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا تھا۔ مراکو میں اس کے برعکس پورب کی طرف رخ کر کے نمازیں ادا کیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ مراکو قبلہ کے دوسری سمت میں واقع ہے۔ اس سفر نے مجھے زمین کے ایک طرف سے اٹھا کر اس کی دوسری طرف پہنچا دیا تھا۔ مراکو میں اس طرح نماز پڑھتے ہوئے اچانک یہ احساس ہوا کہ مسلمان "پورب" اور "پچھم" کا پابند نہیں، وہ صرف "قبلہ" کا پابند ہے۔ دنیا اس رخ پر جارہی ہو یا اس رخ پر، ہمارے لئے لازم ہے کہ ہم خدا کے رخ پر قائم رہیں، ہم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے کبھی نہ ہٹیں۔
کیسابلانکا میں شہر کے اندرونی حصوں میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی جو یہاں کا باشندہ ہے مگر وہ صرف فرانسیسی میں بول سکتا تھا۔ عربی زبان بولنے پر قادر نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ یہاں کچھ ایسے خاندان بھی ہیں جو فرانسیسی کے سوا کوئی اور زبان نہیں جانتے۔ یہ فرانس کے دور اقتدار کی نشانی ہے ۔ یہاں ٹیلی وژن سے لے کرز ہان اور فرنیچر ہر چیز پر فرانسیسی تہذیب کا غلبہ نظر آتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں اسلام پس منظر میں جاتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ جیسے کہ وہ ایک تاریخی روایت بن گیا ہو۔ کیسابلانکا کی مختلف سڑکوں سے گزرنے کا اتفاق ہوا۔ مگر سڑک پر کوئی مسجد یا منارہ دکھائی نہیں دیا۔ اذان کی آواز بھی کسی وقت سننے میں نہیں آئی۔ سڑکوں پر ہوٹل اور رینک اور د فاتر کی بڑی بڑی عمارتیں کھڑی ہوتی ہیں۔ مگر ان کے درمیان کہیں مسجد ابھری ہوئی نظر نہ آئی۔ بعض لوگوں نے بتلایا کہ مسجدیں سڑکوں کے پیچھے پائی جاتی ہیں۔ تاہم وہ زیادہ شاندار نہیں ہیں۔
ہندوستان سے نکل کر ہم بہت سے ملکوں سے گزرتے ہوئے مراکو پہنچے۔ مثلاً خلیج عرب کے ممالک ، شام ترکی، یونان، اٹلی وغیرہ۔ ان ملکوں میں سے کسی کا میرے پاس ویزا نہیں تھا۔ جب کہ مراکو میں داخلہ کے لئے مجھے نئی دہلی کے سفارت خانہ سے باقاعدہ ویزا لینا پڑا۔
اس فرق کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مراکو میں میں زمینی مسافر تھا اور یہاں مجھ کو قیام کرنا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues