اداره الرساله
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۳۵
جب دوسرے ملکوں کا میں نے صرف ہوائی سفر کیا اور ان کی زمین پر نہیں اترات— اگر آپ کسی شخص یا قوم کے اوپر اور پر گزر جائیں تو وہ آپ سے تعرض نہیں کرتا لیکن اگر آپ اس کی حقیقی زندگی میں داخل ہونے کی کوشش کریں تو وہ تعرض کرے گا اور آپ کے خلاف رکاوٹیں ڈالے گا۔
قوموں کا یہ مزاج زندگی میں کامیابی کا نہایت گہرا اصول دیتا ہے۔ یہ کہ آدمی لوگوں کو چھیڑے بغیر، اپنا کام کرے۔ وہ اپنا منصوبہ اس طرح پورا کرے کہ وہ لوگوں کو بالکل بے ضرر معلوم ہو۔ شاید یہی وہ بات ہے جس کو حضرت مسیح نے ان لفظوں میں فرمایا تھا ”تم سانپ کی مانند ہوش یار اور کبوتر کی مانند بے آزار بنو۔“ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلمان اس کے برعکس ثابت ہوئے ہیں کہ ان کے لیڈر ضر ر رسانی سے اپنے کام کا آغاز کرتے ہیں۔ دین کے نام پر قتل، دین کے نام پر نفرت، دین کے نام پر جھگڑوں اور ہنگاموں نے اکثر ملکوں میں دینی کام کرنے کو انتہائی دشوار بنا دیا ہے۔
افریقہ کے ایک صاحب جو کیسا بلا نکا کی اسلامی کانفرنس میں شریک ہوئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے ملک میں مسلمان چوں کہ عام طور پر پر امن ہیں اور وہ بڑی حد تک سیاست سے الگ رہتے ہیں، اس لئے وہاں تبلیغ اسلام کے کام پر کوئی پابندی نہیں۔ یہاں اگر چہ عیسائی حکومت ہے مگر وہ اس کی پروا نہیں کرتی۔ چاہے سارے لوگ اسلام سے نکل جائیں یا سارے لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں (الحكومة لا تهتم بذلك فليخرجوا كلهم ويدخلوا كلهم) یہی صورت حال تقریباً پورے افریقہ میں ہے۔
اس صورت حال نے افریقہ کے عظیم براعظم میں اس کا امکان پیدا کر دیا ہے کہ یہاں بغیر روک ٹوک اسلام کی اشاعت کی جاسکے۔ اگر چہ عملاً ابھی اس امکان کو بہت کم استعمال کیا جا سکا ہے۔ کچھ ملکوں میں مسلمان اپنے خلاف جھوٹی رکاوٹیں کھڑی کرکے دینی کام کی راہ میں مشکلات پیدا کئے ہوئے ہیں۔ اور کچھ ملکوں میں اپنی غفلت کی وجہ سے مواقع کو استعمال کرنے سے محروم ہیں۔ نتیجہ دونوں جگہ یکساں ہے۔ اگر چہ ایک مقام پر ایک سبب سے اور دوسرے مقام پر دوسرے سبب سے۔
میرے پاس کانفرنس کی طرف سے جو ٹکٹ آیا تھا اس میں ۲۲۴ نومبر کا پیشگی رزرویشن تھا۔ میں نے سمجھا کہ شاید ۲ نومبر سے کارروائی شروع ہونے والی ہے۔ چنانچہ رزرویشن کے مطابق ۲۴ نومبر کو دہلی سے روانہ ہو کر اسی دن شام کو کیسابلانکا پہنچ گیا۔ یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ اصل کارروائی ۲۸ نومبر سے شروع ہوگی۔ اس طرح مجھے تین دن ( ۲۵ - ۲۶ - ۲۷ نومبر) غیر ضروری طور پر کیسابلانکا میں گزارنے پڑے۔ یہ تین دن اگر چہ مجھے ” فاؤنسٹار ہوٹل“ میں گزارنا تھا۔ مگر یہ تین دن اتنی مشکل سے گزرے کہ ایسا معلوم
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues