Al-Risala · February 1985 · page 36

اداره الرساله

الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۳۶

ہوتا تھا کہ تین صدیاں گزر گئیں۔ میں نے آئینہ میں اپنے آپ کو دیکھا تو مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میرے بالوں کی سفیدی میں کچھ اضافہ ہو گیا ہے۔ جن لوگوں کے سامنے کوئی بر تر مقصد نہ ہو ان کے لئے اس طرح کے ایام تفریح کے ایام ہوتے ہیں۔ مگر ایک با مقصد انسان کے لئے تین دن یقیناً تین صدیوں سے کم نہیں۔ وہ چیز جس کو فائیو اسٹار ہوٹل کہتے ہیں حقیقتاً ایئر کنڈیشنڈ جیل خانہ کا دوسرا نام ہے۔ ایسے میرے لمحوں میں آدمی کو ایک ایسے ماحول میں بند کر دیا جاتا ہے جہاں ہر چیز مصنوعی ہوتی ہے۔ دھوپ کی جگہ بجلی ، ہوا کی جگہ ایئر کنڈیشنر ، گھاس کے فرش کی جگہ قالین ، سبزہ کی جگہ پلاسٹک کے پھول اور پودے ۔ چڑیوں کے نغمے کی جگہ انسانی موسیقی ، نیلے آسمان کی جگہ منقش چھت ، غرض ہر چیز مصنوعی طور پر فراہم کی جاتی ہے۔ آدمی بڑے بڑے شیشوں کے پیچھے سے قدرت کے مناظر دیکھتا ہے مگر وہ ان سے براہ راست مربوط نہیں ہو سکتا ۔ وہ مجبور ہوتا ہے کہ قدرت کے مشینی بدل کے اندر محبوس ہو کر اپنے صبح و شام گزارتا رہے۔ ہوٹل سفیر میں میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ اس کے اندر کوئی کھلی ہوئی جگہ ہے جہاں قدرتی ہوا اور دھوپ مل سکے۔ انھوں نے مسکرا کر کہا کہ میرا خیال ہے کہ نہیں۔ انھوں نے ہر قدرتی چیز کو بند کر رکھا ہے (هو قفل و اغلقی مفتی) تلاش و جستجو کے بعد بالآخر میں نے ایک جگہ ڈھونڈ نکالی اور وہاں جا کر دھوپ اور کھلی ہوا میں بیٹھنے لگا۔ میرے ساتھ ایک اور صاحب تھے انھوں نے کہا آپ کو اس قسم کا ماحول بہت پسند ہے۔ میں نے کہا ، اس میں مجھے ایک قسم کا ربانی لمس محسوس ہوتا ہے۔

اس کا فرانس میں مختلف ملکوں اور براعظموں کے لوگ شرکت کے لئے آئے تھے۔ میں نے افریقہ کے ایک صاحب سے افریقہ کے مسلمانوں میں جدید تعلیم کے بارہ میں دریافت کیا۔ انھوں نے کہا کہ تعلیم ان میں آئی ہے مگر ابھی اس معاملہ میں وہ اپنے پڑوسی عیسائیوں سے بہت پیچھے ہیں۔ میں نے وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا کہ ماضی میں ہمارے لوگوں کا خیال یہ ہو گیا تھا کہ تعلیم ایک ایسی چیز ہے جو آدمی کو ایمان سے دور کر دیتی ہے (التعلیم شئ یبعد الرجل من الایمان) یہی حال ہندوستان میں بھی مسلمانوں کا ہوا ہے۔

جن بزرگوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم سے روکا وہ اگر چہ نیک نیت تھے۔ مگر ان کی غلطی یہ تھی کہ وہ جدید تعلیم کی نوعیت کو سمجھ نہ سکے۔ مثال کے طور پر اگر وہ کیونزم کی تعلیم سے روکتے تو یہ صحیح ہوتا کیونکہ کیونزم ذہن کے فساد کا دوسرا نام ہے۔ مگر انھوں نے سائنس کی تعلیم سے بھی مسلمانوں کو دور رکھنے کی کوشش کی ، حالانکہ سائنس موجودہ زمانہ میں قوت کے ہم معنی تھی۔ سائنس کی تعلیم میں پیچھے ہونے کی وجہ سے مسلمان دور جدید میں کم از کم سو سال پیچھے ہو گئے۔ مسلمانوں کے پاس اگر چہ قدرتی ذخائر کی کثرت ہے۔ مگر دوسری قومیں ان کا

‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues

Printed page