Al-Risala · February 1985 · page 37

اداره الرساله

الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۳۷

استغلال کر رہی ہیں اور اپنی تعلیمی پس ماندگی کی وجہ سے وہ ان کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے۔ کیسا بلانکا میں شراب اور نائٹ کلب تک کی آزادی ہے۔ نیو رک کی دکان بھی نظر آئی۔ اس لیے یہاں مغربی سیاح کثرت سے آتے ہیں۔ یہ سیاحوں کا شہر بن گیا ہے۔ ایک عرب اپنی بیوی اور دو چھوٹے بچوں کے ساتھ آئے اور ہوٹل سفیر میں مقیم ہوئے وہ غالباً سیاحت کی غرض سے یہاں آئے تھے۔ میں نے دیکھا تو ان کے بیوی بچے فیشن کے سامان اور جدید طرز کے کھلونو ں سے لدے ہوئے تھے۔ ایک موقع پر ان عرب صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ جدید مادی تہذیب کے خلاف بے تکان بولنے لگے۔ میں نے سوچا کہ وہ لوگ بھی کیسے عجیب ہیں جو خود تو عملاً اپنے پورے خاندان کے ساتھ مادی تہذیب میں غرق ہیں اور زبان سے اس کے خلاف تقریر کرنے میں مشغول ہیں۔

یہی موجودہ زمانہ میں اکثر پڑھے لکھے مسلمانوں کا حال ہو گیا ہے۔ وہ جدید مادی تہذیب کے خلاف خوب لکھتے اور بولتے ہیں مگر ان کے گھر کو اور ان کے بیوی بچوں کو دیکھئے تو سراپا مادی تہذیب میں ڈوبے ہوئے نظر آئیں گے۔ حتی کہ ایک مسلمان جو میرے ساتھ ہوائی جہاز میں میرے بغل کی سیٹ پر تھے، انھوں نے ہوائی جہاز کی ضیافت کو قبول کرتے ہوئے شراب لی۔ اتفاق سے وہ بھی اسی ہوٹل سفیر میں آکر ٹھہرے ۔ ایک ملاقات کے دوران ان سے گفتگو ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ آجکل مسلمانوں کے معاملات بالکل غیر اسلامی ہو گئے ہیں" ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ مسلمانوں کے لئے اسلام بھی مختلف فیشنوں میں سے ایک فیشن بن گیا ہے۔ ہر مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ وہ خود جو چاہے کرے۔ اس کو اپنے آپ پر اسلام کو نافذ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کی اسلامیت کے ثبوت کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ دوسروں کی غیر اسلامی روش پر لکھنے اور بولنے کی لاناتاہی صلاحیت رکھتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسلام پر لکھنے اور بولنے والے بے شمار تعداد میں پیدا ہو گئے ہیں مگر لوگوں کا یہی وہ تضاد ہے جس نے ان کی تمام کوششوں کو بالکل بے نتیجہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ کیسا بلانکا میں چڑیاں کافی نظر آئیں۔ مگر یہ سب سمندری چڑیاں تھیں ۔ جانور ہمیشہ اپنے ماحول کی مناسبت سے جمع ہوتے ہیں۔ سمندری ماحول میں سمندری چڑیاں، صحرائی ماحول میں صحرائی چڑیاں اور سر سبز پہاڑوں کے ماحول میں پہاڑی چڑیاں۔ یہی حال انسانوں کا بھی ہے۔ وہ بھی اپنے اپنے ذوق کے مطابق جمع ہوتے ہیں۔ اگر آپ اپنی تحریک کے ساتھ سیاست کی چاشنی لگا دیں تو سیاسی ذوق کے لوگ جوق در جوق آپ کے پاس اکٹھا ہو جائیں گے۔ اگر آپ کی تحریک کے ساتھ تصوف کی غذا موجود ہو تو برکت تلاش کرنے والوں کی بھیڑ آپ کے گرد نظر آنے لگے گی۔

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو کینیا سے اس اجتماع میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ ان کی

‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues

Printed page