Al-Risala · February 1985 · page 38

اداره الرساله

الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۳۸

عمر ابھی ۳۷سال ہے۔ مگر کم عمر ہونے کے باوجود انھوں نے وہ کام کیا ہے جو بڑوں کے کام سے زیادہ قیمتی ہے۔ ان کا نام پتہ یہ ہے :

Shariff Salim Shariff Hussein P. O. Box 128, Marsabit, Kenya, E. Africa آجکل کی زبان ہیں وہ کوئی معروف و مشہور آدمی نہیں مگر انہوں نے بہت قابل قدر کام انجام دیا ہے۔ جناب شریف سالم شریف حسین نے بتایا کہ وہ پہلے راجدھانی نیروبی میں رہتے تھے۔ وہاں ان کے لئے ذاتی اعتبار سے بہت مواقع تھے۔ مگر انہوں نے سیں کیا کہ شہروں سے کام کرنا مکان کو گویا چھت کی طرف سے تعمیر کرنا ہے ۔ وہ نیروبی چھوڑ کر ایک ہزار کلو میٹر دور ایک گاؤں مر سابت چلے گئے۔ وہاں اس وقت ان کے لئے کچھ بھی نہ تھا۔ انہوں نے خود اپنے ہاتھ سے بنیاد کھود کر ایک مدرسہ اور مسجد بنایا۔ انہوں نے کچھ ساتھیوں کو جوڑ کر یہ کوشش کی کہ لوگوں کے ذہن کو جگائیں۔ انھوں غریب بچوں کے کپڑے فراہم کئے ۔ انھوں نے ضرورت مند کسانوں کو مویشی خرید کر دئے اس علاقہ کے لوگ بہت غریب ہیں۔ مگر انہوں نے لوگوں کے اندر حوصلہ پیدا کیا کہ تمہارے ہاتھ پاؤں تمہاری سب سے بڑی دولت ہیں مثلاً وہ ایک گاؤں میں گئے۔ وہاں وعظ کیا۔ گاؤں والوں نے کہا ہمارے یہاں نہ مسجد ہے اور نہ مدرسہ ۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے پاس سب کچھ ہے۔ تمہارے پاس پانی ہے۔ مٹی ہے پتھر ہے لکڑیاں ہیں۔ اور خدا کے دئے ہوئے ہاتھ میں ان کا استعمال کرو۔ چنانچہ ان کی تحریک سے لوگوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اینٹ تیار کی اور لکڑیاں جمع کیں اور تھوڑی سی سینٹ خرید کر خود اپنی محنت سے ایک مسجد اور مدرسہ کھڑا کر دیا۔

یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا " یہ مسجد اور مدرسہ اگر کسی بیرونی ملک کے ڈالنے بنا ہوتا تو کسی کو اس سے دل چسپی نہ ہوتی ۔ مگر آج گاؤں والوں کو اس کی ایک ایک اینٹ سے محبت ہے کیونکہ اس اینٹ کو انھوں نے خود اپنا پسینہ بہا کر بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ پورا علاقہ اس سے پہلے پس ماندہ ریت میں پڑا ہوا تھا مگر آج اس کو ہمارے گاؤں نے جگا دیا ہے (وکن قريت نا هذا الان اليقظتهم )

وہ تعلیم، تعمیر، دعوت اور اصلاح ہر میدان میں کام کر رہے ہیں انھوں نے اس کی جو تفصیل بتائی اس کو لکھنے کے لئے ایک پورا مضمون چاہئے تا ہم اس کو سن کر میرے دل نے کہا کہ یہی غیر معروف لوگ ہیں جو دراصل اسلام کو قائم رکھے ہوئے ہیں، ورنہ جہاں تک معروف اور مشہور لوگوں کا تعلق ہے انہوں نے تو اسلام کے نام پر اپنی شخصیت کی تعمیر کی ہے نہ کہ خود اسلام کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues

Printed page