Al-Risala · February 1985 · page 44

اداره الرساله

الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۴۴

حال میں دیکھ کر پوچھا کہ آپ کیوں اس طرح چپ چاپ بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں پھر بھی چپ رہا۔ ان کے بار بار سوال پر میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے لوگوں کا حال دیکھ کر اکثر میرا دل یہ کہنے لگتا ہے کہ : الناس يفرحون لكي لا يفرحوا بعد ذلك ابداً۔ (الناس يضحكون لكي لا تيسر لهم الضحك بعد ذلك ابداً۔

ایک موقع پر افریقہ میں قحط اور بھوک کے موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی۔ ایک صاحب جو آجکل کی زبان میں "چین اسموکر تھے، وہ ایک کے بعد ایک قیمتی سگریٹ سلگا رہے تھے۔ انھوں نے دھواں اڑاتے ہوئے کہا کہ آج کا اصل مسئلہ بھوک نہیں۔ آج کا اصل مسئلہ اسراف ہے۔ عرب دنیا میں آج جس طرح مسرفانہ طور پر خدا کی دولت خرچ کی جارہی ہے۔ اگر اس کو صحیح ڈھنگ پر خرچ کیا جائے تو ساری دنیا میں بھوک کا مسئلہ حل ہو جائے۔ میں خاموش بیٹھا ہوا لوگوں کو دیکھ رہا تھا جو سلطان چہروں کے ساتھ بھوک کے مسئلہ پر بے تکان بول رہے تھے۔ میرے دل نے کہا۔

" ہر آدمی دوسرے کی کیوں سے آخری حد تک باخبر ہے اور اپنی کیوں سے آخری حد تک بے خبر۔ " ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلام موجودہ زمانہ میں ایک فیشن بن گیا ہے۔ یہ بھی شاید ایک عالمی ظاہرہ کا ایک حصہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں ٹیکنیکل ترقیوں سے پیداشده سنگین مسائل نے بہت سے لوگوں میں یہ رد عمل پیدا کیا ہے کہ وہ " ماضی کی طرف واپسی" کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ انھیں میں سے ایک طبقہ وہ ہے جو مذہب کی طرف واپسی کی باتیں کرتا ہے۔ اس قسم کے لوگ ہر مذہب میں کثرت سے پیدا ہو گئے ہیں اسی طرح مسلمانوں میں بھی ایک گروہ پیدا ہو گیا ہے جو اسلام کی طرف واپسی کی باتیں کرنے لگا ہے۔ مگر یہ سب کچھ فیشن ہے۔ ان میں سے کوئی حقیقی معنوں میں سنجیدہ نہیں۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ لوگ جو " واپسی" کی باتیں کرتے ہیں ان کا تعلق صرف دوسروں کی واپسی سے ہوتا ہے۔ خود اپنی واپسی سے کسی کو کوئی دل چسپی نہیں۔ فاس (Fes) یہاں کا سب سے مشہور تاریخی شہر ہے۔ اس کو ادریس بن عبداللہ نے ۱۰۲ء میں آباد کیا تھا۔ اس وقت یہاں اسلام عمومی طور پر نہیں پھیلا تھا۔ ادریس بن عبداللہ جو سیاسی دارو گیر سے بھاگ کر یہاں آئے تھے۔ انھوں نے اپنی دعوتی کوششوں سے تقریباً پورے ملک کو مسلمان بنا ڈالا۔ ۳۰ نومبر ۱۹۸۳ء کو فاس کا سفر ہوا۔ صبح کے وقت کانفرنس کے شہر کا خصوصی طیارہ کے ذریعہ کیسا بلا نکا سے فاس لے جائے گئے۔ اور اسی دن شام کو کیسا بلا نکا واپس آگئے ۔ فاس کا شہر کیا بلانکا سے بذریعہ ہوائی جہاز پون گھنٹہ کی مسافت پر ہے فاس قدیم زمانہ میں علم کا بہت بڑا مرکز تھا۔ یہاں دور دور سے طلبہ آتے تھے۔ مشہور ہے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues

Printed page