اداره الرساله
الرسالہ، فروری ۱۹۸۵، صفحہ ۲۵
میں عجیب صورت پیش آئی۔ میرا رزرویشن روم سے کنفرم نہیں تھا۔ اور آج اتفاق سے گورنمنٹ آف انڈیا کے افسروں کی ایک جماعت اسی جہاز سے سفر کر رہی تھی، اس لئے بظا ہر سیٹ حاصل کرنا مشکل تھا، مگر مسٹر شیٹی کی دوبارہ مل گئے انھوں نے مجھ کو لاؤنج میں بٹھا دیا اور میرا ٹکٹ لے کر ایئر انڈیا کے دفتر میں گئے اور رزرویشن کنفرم کرا کے آئے۔
میری واپسی کی تاریخ کی دہلی خبر نہیں ہوسکی تھی ۔ ان سے میں نے ذکر کیا تو فورا انھوں نے میرا ٹیلیفون نمبر لیا اور کہا کہ ابھی میں دہلی کو ٹیکس بھیج دیتا ہوں کہ آپ کے گھر پر اطلاع دے دی جائے کہ آپ اتوار کی صبح کو ایئر انڈیا کی فلائٹ ۱۳۱ سے دہلی پہنچ رہے ہیں۔
مسٹر میشی نے جس اخلاق اور ذمہ داری کا ثبوت دیا وہ اس قدر معیاری تھا کہ مجھے تعجب ہوا کہ خود غرضی اور مقصدیت کی اس دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں۔ موصوف کے نام الرساله (انگریزی) اعزازی طور پر جاری کر دیا گیا ہے۔
یکم دسمبر ۱۹۸۴ کو کیسا بلانکا سے واپسی کے لئے روانہ ہوا۔ الیتالیا (۸۲۵) پر سفر کرتے ہوئے لندن کے اخبار ڈیلی گراف (۲۹ نومبر ۱۹۸۴) میں یہ خبر پڑھی کہ آکسفورڈ کے ۳۳ سالہ جان لیمبرٹ (John Lambert) نے اپنی تین لڑکیوں کو قتل کر دیا۔ اس نے اپنی بیوی کے نام آخری خط میں لکھا تھا کہ تم نے مجھ کو ایک محبت کرنے والے و فادار شوہر سے بدل کر قاتل بنا ڈالا۔ میں ہر چیز کا الزام صرف تم کو دیتا ہوں قاتل پکڑا گیا۔ اس کے بعد اس نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا؛
It's all to do with my wife going with other men.
‹ Previous page Next page › Contents of February 1985 All issues