یہودی کردار
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۷۰
یہودی کردار
یہودی کردار دراصل اعتراف نہ کرنے کا دوسرا نام ہے۔ یہ وہ انسان ہے جو کسی بھی مرحلہ میں دوسرے کو تسلیم نہیں کرتا۔ نہ ابتدائی مرحلہ میں اور نہ آخری مرحلہ میں۔ اس کردار کی مثال قرآن میں کتے سے دی گئی ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ ایسا انسان کتے کی مانند ہے کہ اس کو چھوڑ دو تب بھی ہانپے اور باندھے رکھو تب بھی ہانپے۔ یعنی وہ دوسرے کے فضل کا اعتراف نہ اس وقت کرتا جب کہ وہ تصوراتی حیثیت رکھتا تھا اور نہ اس وقت کرتا جب کہ اس کی شخصیت ایک واقعہ بن چکی ہو۔ (اعراف ۱۷۵)
اس کی وضاحت کے لیے سورہ یوسف کی مثال لیجئے۔ اس سورۃ میں بتایا گیا ہے کہ حضرت یوسف جب چھوٹے تھے تو ان کے سوتیلے بھائیوں کو ان سے جلن ہوگئی۔ انھوں نے چاہا کہ انھیں مار ڈالیں۔ یہاں تک کہ وہ ان کو گھر سے دور ایک سنسان مقام پر لے گئے اور وہاں ان کو ایک اندھے کنوئیں میں ڈال دیا۔ بظاہر حضرت یوسف کو اس اندھے کنوئیں میں اپنی موت آپ مر جانا چاہیے تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ وہ اس سے نکل کر مصر پہنچے ۔ وہاں دوبارہ آپ کے لیے ایسے اسباب پیدا ہوئے کہ آپ مصر کی حکومت میں اعلیٰ مقام پر فائز ہو گئے۔
اس کے بعد دوبارہ وہ اسباب پیدا ہوئے جس نے حضرت یوسف کے بھائیوں کو حضرت یوسف کے دربار میں اس حال میں پہونچایا کہ حضرت یوسف بڑے تھے اور وہ ان کے سامنے چھوٹے بن کر کھڑے ہوئے تھے ۔ اس وقت جب سوتیلے بھائیوں کو معلوم ہوا کہ جس نوجوان کو انھوں نے اندھے کنوئیں میں ڈالا تھا وہ مصر پہونچ کر یہاں کے تخت پر بیٹھا ہوا ہے تو ان کی زبان سے بے اختیار نکلا : خدا کی قسم ، اللہ نے تم کو ہم سے اوپر کر دیا (تا الله لقد اٰثرك الله علينا) حضرت یوسف کے بھائیوں نے اگرچہ پہلے مرحلہ میں حضرت یوسف کا اعتراف نہیں کیا تھا مگر دوسرے مرحلہ میں وہ ڈھ پڑے اور کھلے دل سے حضرت یوسف کے فضل کا اعتراف کر لیا۔ حضرت یوسف کے بھائی اگر یہودی ذہنیت کے ہوتے تو وہ کتے کی طرح پہلے بھی ہانپتے اور بعد کو بھی ہانپتے۔ یعنی پہلے اگر وہ جلن میں مبتلا ہوئے تھے تو اب وہ کہہ دیتے کہ مصر کے مشرک بادشاہ کی خوشامد کر کے اس نے مصر میں یہ عہدہ حاصل کیا ہے۔ وہ حضرت یوسف کے معاملہ میں پہلے جس طرح بے انصاف بنے ہوئے تھے بعد کو بھی وہ ان کے حق میں بے انصاف ثابت ہوتے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues