Al-Risala · March 1986 · page 21

دانش مندی

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۲۱

دانش مندی

دنیا دانش مندی کا امتحان ہے۔ یہاں ہر آدمی آزمائش کے مقام پر کھڑا ہوا ہے۔ جو شخص دانش مندی کا ثبوت دے وہ امتحان میں پورا اترے گا۔ اور جو شخص دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکے وہ امتحان میں ناکام ہو گیا۔ اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں ابدی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں ۔ دانش مندی کیا ہے ۔ دانش مندی حقیقتاً کسی آدمی کی اس صلاحیت کا نام ہے کہ وہ غیر معتدل حالات میں معتدل ذہن سے سوچ سکے ۔ وہ عملی بحران کے وقت بھی فکری بحران میں مبتلا نہ ہو۔ غیر معتدل حالات ہی میں دراصل یہ معلوم تھا ہے کہ کون شخص فی الواقع دانش مند ہے اور کون شخص دانش مند نہیں ۔

زندگی کا سب سے نازک امتحان یہ ہے کہ آدمی واقعات کو ان کے صحیح رُخ سے دیکھ سکے۔ اکثر ناکامیوں کا سبب یہ ہوتا ہے کہ آدمی واقعات کو ان کے صحیح رُخ سے نہیں دیکھتا اس لیے وہ ان کے بارے میں صحیح رائے بھی قائم نہیں کر پاتا ۔

مثال کے طور پر اکثر ایک واقعہ کے ساتھ دوسرا واقعہ شامل رہتا ہے۔ ایسے موقع پر آدمی کو جاننا پڑتا ہے کہ کب اسے ایک واقعہ کو دوسرے واقعہ سے الگ کر کے دیکھنا ہے اور کب اسے ایسا کرنا ہے کہ وہ ایک واقعہ کو دوسرے واقعہ سے ملا کر دیکھے ۔ زندگی میں کبھی پہلی دانش مندی مطلوب ہوتی ہے اور کبھی دوسری دانش مندی ۔ یہاں ہم مسئلہ کی وضاحت کے لیے دونوں قسم کی مثالیں نقل کریں گے ۔

دشمن کو رہنما بنانا

قدیم عرب میں موجودہ زمانہ کی طرح راستوں کے نشانات نہیں تھے اور نہ اس وقت آج کل کی طرح سڑکیں پائی جاتی تھیں ۔ آدمی مجبور ہوتا کہ وہ سنان پہاڑوں اور لق و دق صحراؤں کے درمیان اپنا سفر طے کرے۔ چنانچہ دور کا سفر کرنے کے لیے لوگوں کو رہنما کی ضرورت پڑتی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت ابو بکر صدیق کے ہمراہ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت

‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues

Printed page