Al-Risala · March 1986 · page 34

Alcoholic beverages will not be provided

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۶، صفحہ ۳۴

امریکہ میں مذہب کے اعتبار سے آبادی کی تقسیم حسب ذیل ہے ۔ پروٹسٹنٹ55فی صد۔ رومن کیتھولک ، ۲۳ فی صد۔ یہودی فیصد آرتھوڈاکس ایسٹرن چرچ ۳ فی صد۔ بقیہ ایک فیصد۔ آبادی کے لحاظ سے امریکہ کا سب سے بڑا شہر نیو یارک ہے۔

امریکہ کا اصل دین تجارت ہے۔ صدر کالوین کولج (Calvin Coolidge) نے کہا تھا کہ امریکہ کا کام تجارت کرنا ہے :

(The business of America is business)

مگر ہندوستان کے بنیا اور امریکہ کے بنیا میں یہ فرق ہے کہ ہندوستان کا بنیا صرف بنیا ہے اور امریکہ کا بنیا سائنٹفک بنیا ۔ اس وقت امریکہ کی سب سے بڑی تجارت اس کے جدید ترین ہتھیار ہیں۔ ۱۹۴۸ میں امریکہ نے ۸۰۰ ملین ڈالر کا ہتھیار ایشیائی ملکوں کے ہاتھ فروخت کیا۔ امریکہ کی دلچسپی زیادہ تر بھاری صنعتوں میں ہے ۔ مگر جاپان کے تجربہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ " چھوٹی" صنعتیں بھی " بھاری صنعتوں کو شکست دے سکتی ہیں۔ مثلاً امریکہ بڑی بڑی قیمتی کاروں کے بنانے میں اجارہ داری حاصل کیے ہوئے تھا۔ جاپان نے چھوٹی کم خرچ کاریں بنانی شروع کیں۔ جاپان کو اس معاملے میں اتنی زبر دست کامیابی حاصل ہوئی کہ آج امریکہ کی سڑکیں جاپانی کاروں سے بھری ہوئی ہیں۔ کوئی قوم خواہ کتنی ہی ترقی کر جائے اس کے اندر کوئی گوشہ خالی رہتا ہے۔ اس خالی گوشہ سے داخل ہو کر آپ اس کے اوپر غلبہ حاصل کر سکتے ہیں۔

ہر برٹ ہوور (Herbert Hoover) نے ۱۹۲۸ میں کہا تھا کہ بہت جلد ہم خدا کی مدد سے امریکہ سے غریبی کا خاتمہ کر دیں گے۔ مگر اس کے بعد ۱۹۲۹ اور ۱۹۳۲ کے درمیان زبر دست تجارتی بحران (Depression) آیا۔ اس میں پانچ ہزار بنک بند ہو گئے۔ کار خانوں کا مال بکنا موقوف ہو گیا۔ امریکہ کی ایک تہائی آبادی کا یہ حال ہوا کہ وہ بے روزگاری کا شکار ہو کر رہ گئی۔ یہ اقتصادی بحران قوت خریداری نہ ہونے سے پیدا ہوا تھا کہ سامان خریداری نہ ہونے کی وجہ سے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ وہ عجیب و غریب صورت حال پیدا ہوئی جو اس سے پہلے دنیا میں کبھی نہیں آئی تھی : People went hungry while fruit, vegetables and grain were in abundance. Houses were unheated while coal piled up in mountains.

‹ Previous page Next page › Contents of March 1986 All issues

Printed page