افراد کی اہمیت
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۸
افراد کی اہمیت
آدمی پر لازم ہے کہ وہ ہمیشہ صحیح مقصد کو اپنائے۔ جو شخص صحیح مقصد کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے گا وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اجر پائے گا۔ اور جو شخص غلط مقصد کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں پکڑا جائے گا اور اپنی بے راہ روی کے مطابق اس کی سزا پائے گا۔
تاہم موجودہ دنیا میں کامیابی کے لیے مقصد کا صحیح ہونا کافی نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مقصد کے گرد جو افراد اکٹھا ہوں وہ جاندار افراد ہوں۔ بے جان افراد نہ صحیح مقصد کو کامیاب بنا سکتے اور نہ غلط مقصد کو۔
افراد کے جاندار ہونے کے بہت سے پہلو ہیں۔ اس کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے کردار سے اپنے آپ کو قابل اعتماد ثابت کریں۔ کسی شخص کو جو اختیار سونپا جائے اس اختیار میں وہ صحیح معنوں میں امانت دار ثابت ہو۔ جاندار افراد کی خاص صفت امانت ہے اور بے جان افراد کی خاص صفت خیانت۔ مثال کے طور پر ہجرت کے آٹھویں سال وہ حالات پیدا ہوئے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف اقدام فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عباس بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۱۰ رمضان ۶ھ کو مدینہ سے مکہ کے سفر پر روانہ ہوئے۔ اس وقت آپ نے مدینہ میں اپنی جگہ پر کلثوم بن حصین کو حاكم مقرر کیا ( ثم مضى رسول الله صلى الله عليه وسلم لسفرة ، واستخلف على المدينة ابارهم كلثوم ابن حصين بن عتبة بن خلف الغفاري ابن ہشام جلد رابع صفحہ ۱۷)
اس کے بعد جب مکہ فتح ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں عمرہ ادا فرمایا اور ذوالقعدہ ۶ھ میں مدینہ کے لیے واپس روانہ ہوئے۔ اس وقت آپ نے اپنی جگہ پر عتاب بن اسید کو مکہ کا حاکم مقرر کیا ( فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم من عمرته راجعا الى المدينة واستخلف عتاب بن أسيد على مكة ، ابن هشام جلد رابع صفحہ 148) )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی غیر موجودگی میں مدینہ کا انتظام دیکھنے کے لیے کلثوم بن حصین پر بھروسہ کرنا پڑا۔ اسی طرح مکہ کے انتظام کے لیے آپ نے عتاب بن اسید پر بھروسہ کیا۔ اب غور کیجیے کہ اگر یہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues