افراد کی اہمیت
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۹
دونوں صاحبان بے جان اور بے بھروسہ افراد ہوتے تو کیا ہوتا ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ سے سفر کر کے مکہ پہنچتے تو آپ کو یہ خبر ملتی کہ کلثوم بن حصین نے بغاوت کر کے مدینہ میں اپنی آزاد حکومت قائم کر لی ہے ۔ اسی طرح مکہ سے نکل کر جب آپ مدینہ کے لیے روانہ ہوتے تو راستے میں کوئی خبر دینے والا آپ کو بتاتا کہ عتاب بن اسید نے آپ کی غیر موجودگی میں بغاوت کر دی اور مکہ میں اپنی آزاد حکومت قائم کر لی ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے ایک ایسا انقلاب برپا کیا جس نے انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا۔ ایسا اس لیے ہوا کہ آپ کے اصحاب بے حد جاندار لوگ تھے ۔ اس کے برعکس اگر وہ بے جان لوگ ہوتے تو تاریخ میں ہمیں صرف باہمی لڑائیوں کے واقعات پڑھنے کو ملتے نہ کہ فتح و نصرت کے واقعات ۔ جب بھی کوئی بڑا کام کرنا ہو تو اس کے لیے ہمیشہ بہت سے لوگوں کی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے بڑا کام کوئی ایک آدمی کبھی انجام نہیں دے سکتا ۔ اجتماعیت اور تنظیم کی اہمیت اسی لیے ہے تاکہ بڑے بڑے کام انجام دیئے جاسکیں ۔ زندگی سے اجتماعیت اور تنظیم کو حذف کر دیجیے تو تمام بڑے کام بھی اسی کے ساتھ حذف ہو جائیں گے ۔
جب بہت سے لوگ مل کر کوئی کام انجام دیں تو مختلف لوگوں کو مختلف ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں ۔ کسی کو ایک چیز حوالے کی جاتی ہے اور کسی کو دوسری چیز ۔ اس طرح تقسیم عمل کا نظام وجود میں آتا ہے ۔ ایسے نظام کی کامیابی کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ ہر آدمی امانت دار ثابت ہو ۔ جس کو جو چیز سونپی جائے وہ اس میں صحیح تصرف کرے ، اور اس کے معاملہ میں اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا کرے ۔
اس کے برعکس اگر یہ ہو کہ اجتماعی نظام کی طرف سے جس کو جو چیز دی جائے اس کو وہ اپنی ذاتی ملکیت سمجھ لے ، وہ اپنے فرائض کو ادا کرنے کے بجائے اپنے حقوق کو مستحکم کرنے میں اپنی ساری توجہ صرف کرنے لگے تو اجتماعی نظم کا اصل مقصد فوت ہو جائے گا ۔ لوگ چھوٹے چھوٹے جھگڑوں میں الجھ کر رہ جائیں گے اور بڑے کام کے لیے جو منصوبہ بنایا گیا تھا ۔ وہ اپنی تکمیل کو نہیں پہنچ سکے گا ۔
زندہ افراد زندہ تاریخ بنتے ہیں اور مردہ افراد مردہ تاریخ ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues