Al-Risala · April 1986 · page 10

عورت کے بارہ میں

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۱۰

عورت کے بارہ میں

اسلام کی بنیاد دو باتوں پر ہے اللہ کا خوف اور انسانوں کا احترام۔ اس کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے :

یا ایھا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من اے لوگو، اپنے رب سے ڈرو۔ جس نے تم کو ایک نفس واحدة وخلق منھا زوجھا وبث منھما جان سے پیدا کیا۔ اور اسی (کی جنس) سے اس کا رجالا کثیرا ونساء واتقوا اللہ الذی جوڑا پیدا کیا۔ اور ان دونوں سے بہت سے مرد تساءلون بہ والارحام ان اللہ کان اور عورت پھیلا دیئے۔ اور تم اللہ سے ڈرو جس علیکم رقیبا (النساء 1) کے واسطہ سے تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔ اور قرابتوں کے باب میں بھی۔ بے شک اللہ تمہارے اوپر نگراں ہے ۔

اس آیت میں خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا (خدا نے اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا) کا مطلب بعض لوگوں نے یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے آدم کو مٹی سے پیدا کیا ، اور اس کے بعد ان کے جسم سے ان کی ایک پسلی نکال کر ان کی بیوی حوا کو بنایا ۔ مگر یہ تشریح صحیح نہیں ، یہ بائبل کی بات ہے نہ کہ قرآن کی بات۔ بائبل میں حضرت حوا کی پیدائش کے بارہ میں اسی قسم کی روایت آئی ہے۔ یہاں ہم بائبل کے الفاظ نقل کرتے ہیں :

اور خداوند خدا نے آدم پر گہری نیند بھیجی اور وہ سو گیا۔ اور اس نے اس کی پسلیوں میں سے ایک کو نکال لیا اور اس کی جگہ گوشت بھر دیا۔ اور خداوند خدا اس پسلی سے جو اس نے آدم میں سے نکالی تھی۔ ایک عورت بنا کر اسے آدم کے پاس لایا۔ اور آدم نے کہا کہ یہ تو اب میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے ۔ اس لیے وہ ناری کہلائے گی۔ کیوں کہ وہ نر سے نکالی گئی ہے۔ (پیدائش ( ۲۳ - ۲۱ : ۲ بائبل کی یہی روایت ہے جس کو بعد کے کچھ لوگوں نے قرآن کی تفسیر میں داخل کر دیا۔ اور اس کی روشنی میں قرآنی آیت کی تشریح کرنے لگے۔ مگر یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ بائبل ایک محرف کتاب

‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues

Printed page