Al-Risala · April 1986 · page 11

عورت کے بارہ میں

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۱۱

ہے ۔ اس میں پیغمبروں کے کلام کے ساتھ عام انسانی کلام کی آمیزش ہوئی ہے ، اس لیے اس کے بیان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ اس کی روشنی میں قرآنی آیت کی تشریح کرنا درست ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیت یا کسی بھی دوسری آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حوا کو آدم کی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں جو لفظ ہے وہ منھا (اس سے) ہے نہ کہ من ضلع آدم (آدم کی پسلی سے)۔ چنانچہ محقق مفسرین نے منھا سے مراد من جنسھا لیا ہے۔ یعنی نفس واحده (آدم) کی جنس سے نہ کہ خود آدم کے اپنے جسم سے ۔ ابومسلم اصفہانی اور بعض دوسرے مفسرین سے یہی قول نقل ہوا ہے اور یہی قرآنی الفاظ کے مطابق ہے۔ (القول الثانی ما هو اختيار ابی مسلم الاصفہانی ان المراد من قوله وخلق منها زوجها اى من جنسها ، تفسیر کبیر - ويحتمل ان يكون المعنی من جنسہ لامن نفسه حقيقة ، البحر المحيط )

منھا کو من جنسھا کے معنی میں لینے کی تائید بعض دوسری آیتوں سے ہوتی ہے۔ قرآن میں نفس کا لفظ بار بار جنس کے معنی میں آیا ہے۔ اس طرح یہ دوسری آیتیں سورہ نساء کی مذکورہ آیت کی نہایت واضح تشریح کر رہی ہیں۔ یہاں ہم چند آیتیں نقل کرتے ہیں :

والله جعل لكم من انفسكم ازواجاً اور اللہ نے تم ہی میں سے تمہارے لیے بیویاں (النحل ۷۲)

بنائیں ۔

ومن آياته ان خلق لكم من انفسكم ازواجا اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے (الروم ۲۱) تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں بنائیں تاکہ تم سکون حاصل کرو۔

فاطر السماوات والارض جعل لكم من وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ انفسكم ازواجا ومن الانعام ازواجا اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے بنائے ۔ اور اسی طرح مویشیوں میں سے جوڑے بنائے ۔

ان آیتوں پر غور کیجیے ۔ ان میں عام مردوں کی ازواج (بیویوں) کے لیے بھی عین وہی لفظ آیا ہے جو سورہ نساء کی آیت میں حضرت آدم کی زوج (بیوی) کے لیے آیا ہے۔ اس کے مطابق حوا کو جس طرح آدم کی " نفس " سے پیدا کیا گیا ۔ اسی طرح دوسرے تمام مردوں کی بابت بھی ارشاد ہوا ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues

Printed page