احادیث
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۱۲
ان کی بیویوں کو ان کے " انفس" سے پیدا کیا گیا ہے ۔
ظاہر ہے کہ ان دوسری آیتوں کے یہ معنی نہیں لیے جاسکتے کہ ہر مرد کی بیوی اس کے اپنے جسم کے اندر سے نکالی گئی ہے ۔ یہاں لازمی طور اس کو جنس کے معنی میں لینا ہوگا ۔ یعنی یہ کہ اللہ نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے تمہاری عورتیں بنائیں تاکہ وہ تمہارے لیے حقیقی معنوں میں رفیق زندگی بن سکیں ۔
جس طرح عام آدمیوں کی بیویاں ان کی ہم جنس ہیں نہ کہ حیاتیاتی معنوں میں ان کے جسم کا حصہ ۔ اسی طرح حضرت آدم کی بیوی (حوا) بھی ان کی ہم جنس تھیں ، وہ آدم کے جسم کے اندر سے نکالی نہیں گئیں ، اللہ نے آدم کی طرح ان کی بیوی کو بھی اپنی قدرت سے پیدا کیا۔ جس طرح اس نے عام مردوں کی طرح ان کی عورتوں کو اپنی قدرت خاصہ سے پیدا فرمایا ہے ۔
احادیث
اب ایک سوال ان احادیث کا ہے جو اس سلسلہ میں نقل کی جاتی ہیں اور جن میں صراحۃ ضلَع (پیسلی) کا لفظ آیا ہے ۔ اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ ان احادیث میں آدم و حوا کی تخلیق کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ بلکہ وہ عام عورتوں کے بارہ میں ہیں ۔ یعنی ان احادیث میں ہر ہر عورت کی تخلیقی نوعیت کا ذکر ہے نہ کہ مخصوص طور پر حضرت حوا کی تخلیقی نوعیت کا ذکر ۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں :
استوصوا بالنساء خیرا فانھا خلقت من عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ کیوں کہ وہ ضلع (التفسیر المظہری)
پسلی سے پیدا کی گئی ہیں ۔
اس کا یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ عورت واقعہ پسلی سے پیدا کی گئی ہے ۔ کیوں کہ پورے فقرہ کے ساتھ اس کا کوئی جوڑ نہیں ۔ حدیث کا مدعا عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک کی تاکید کرنا ہے۔ اس لیے اس کی وہی تشریح درست ہوگی جو اس اصل مدعا کے ساتھ مطابقت رکھتی ہو ۔ " عورتیں پسلی سے پیدا کی گئی ہیں " کا فقرہ یہاں مجازی معنوں میں ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں کا معاملہ پسلی جیسا معاملہ ہے ۔ وہ پسلی کی مانند ہیں۔ چنانچہ دوسری روایت میں خود حدیث میں یہ صراحت موجود ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں :
‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues