کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۱۳
عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : المرأة كالضلع ان اقمتها علیہ وسلم نے فرمایا ۔ عورت پسلی کی مانند ہے۔ اگر كسرْتَھا ( بخاری ، كتاب النکاح - مسلم ، کتاب تم اس کو سیدھا کرو گے تو تم اس کو توڑ دو الرضاع )
گے ۔
بخاری و مسلم کی اس روایت میں واضح طور پر کا لضلع کا لفظ ہے ۔ یعنی یہ کہ عورت پسلی کی مانند ہے نہ یہ کہ وہ خود پسلی سے بنائی گئی ہے ۔ پسلی کی مانند ہونے کا مطلب کیا ہے ، یہ بھی صراحتہ حدیث میں موجود ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو تم اس کو توڑ دو گے ۔
" عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے " اور " عورت پسلی کی مانند ہے " دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ یہ صرف ادبی اسلوب کا فرق ہے نہ کہ حقیقت کا فرق ۔ ہر زبان میں یہ اسلوب عام ہے کہ جب تشبیہ میں شدت پیدا کرنا مقصود ہو تو " مثل " کا لفظ حذف کر دیتے ہیں ۔ مثلاً ایک شخص کی بہادری بتانے کے لیے کبھی کہا جاتا ہے کہ وہ شیر کی طرح ہے ۔ اور جب اس بات کو زیادہ زور دے کر کہنا ہو تو کہہ دیتے ہیں کہ " وہ شیر ہے "۔ جیسے میر انیس نے کربلا کے میدان کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا ہے :
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
عورت کے بارہ میں نفسیات اور حیا تیات کا علم بتاتا ہے کہ وہ " صنف نازک " ہے۔ وہ مرد کے مقابلہ میں کمزور اور نازک ہوتی ہے۔ اس کے مزاج میں انفعالیت ہے۔ چنانچہ کسی واقعہ سے وہ بہت جلد متاثر ہو جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو ہر آدمی جانتا ہے خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا بے پڑھا لکھا۔ ہر باپ جانتا ہے کہ بیٹے سے سختی کی جا سکتی ہے مگر بیٹی کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرنا ضروری ہے۔ کیوں کہ وہ شدت کا تحمل نہیں کر سکتی ۔ چنانچہ خود کشی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مردوں کے مقابلہ میں عورتیں زیادہ خودکشی کرتی ہیں ، وہ ایک معمولی واقعہ سے متاثر ہو کر خود کشی کر سکتی ہیں یا ذہنی اختلال کا شکار ہو کر رہ جاتی ہیں ۔
یہی وہ معلوم حقیقت ہے جس کو حدیث میں تمثیل کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ آدمی کے
‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues