جدید تحقیقات
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۱۴
سینے میں پسلی کی ہڈیاں کسی قدر خم دار ہوتی ہیں۔ ان کا خم دار رہنا ہی مصلحت کے مطابق ہے۔ کوئی ڈاکٹر ایسا نہیں کرتا کہ آپریشن کے ذریعہ ان پسلیوں کو سیدھا کرنے کی کوشش کرے۔ اسی معلوم واقعہ کی مثال دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ ان کی فطرت کے مطابق پیش آؤ۔ عورتوں سے معاملہ کرتے ہوئے ہمیشہ یہ ذہن میں رکھو کہ عورتیں فطری طور پر نازک اور جذباتی ہوتی ہیں۔ اللہ نے مخصوص مصالح کے تحت انھیں بالارادہ ایسا ہی بنایا ہے اس لیے تم ان کے ساتھ ہمیشہ نرم برتاؤ کرو۔ کوئی بات بتانا ہو تو نرمی اور خوش اسلوبی کے ساتھ بتاؤ اگر تم ان کے ساتھ سختی کرو گے تو ان کی شخصیت اس کا تحمل نہ کر سکے گی ۔ ان کا دل اسی طرح ٹوٹ جائے گا جس طرح پسلی سیدھا کرنے میں ٹوٹ جاتی ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار سفر میں تھے۔ کچھ خواتین اونٹ پر بیٹھی ہوئی چل رہی تھیں ساربان نے اونٹ کو زیادہ تیز چلانا چاہا ۔ اونٹ جب تیز چلتا ہے تو مسافر کا جسم کافی ہلنے لگتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساربان کو منع کیا اور فرمایا : رفقا بالقوارير ( شیشہ کے برتنوں کے ساتھ نرمی کرو)۔
جدید تحقیقات
موجودہ زمانہ میں خالص علمی طور پر یہ بات تسلیم کر لی گئی ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان بنیادی پیدائشی فرق پائے جاتے ہیں ، انسائیکلو پیڈیا برطانیہ (۱۹۸۲) میں خواتین کی حالت (Status of women) پر ایک مفصل مقالہ ہے ۔ اس مقالہ کا ایک ذیلی عنوان یہ ہے : Scientific studies of male-female differences (مرد اور عورت کے فرق کا علمی مطالعہ) مقالہ کے اس حصہ میں مقالہ نگار نے دکھایا ہے کہ جدید تحقیقات ثابت کرتی ہیں کہ عورت اور مرد کے درمیان عین پیدائشی بناوٹ کے اعتبار سے فرق پایا جاتا ہے اس کے بعد وہ لکھتے ہیں :
With respect to personality traits, men are characterized by gre- ater aggressiveness, dominance, and achievement motivation, women by greater dependency, a stronger social orientation, and the tendency to be more easily discouraged by failure than men ( 19/907 ).
‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues