جدید تحقیقات
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۱۵
اوصاف شخصیت کے اعتبار سے ، آدمیوں کے اندر جارحیت اور غلبہ کی خصوصیت زیادہ پائی گئی ہے ۔ ان میں حاصل کرنے کا جذبہ بھی زیادہ ہوتا ہے ۔ اس کے مقابلہ میں عورتیں سہارا چاہتی ہیں ۔ ان کے اندر معاشرہ پسندی کا رجحان زیادہ ہوتا ہے ۔ اور ناکامی کی صورت میں مردوں کے مقابلہ میں وہ زیادہ آسانی سے بے ہمت ہو جاتی ہیں ۔
اس سلسلہ میں موجودہ زمانہ میں بے شمار تجربات کیے گئے ہیں ۔ مثلاً امریکہ میں ایک تجربہ یہ کیا گیا کہ ایک لڑکا اور ایک لڑکی کا انتخاب کیا گیا ۔ دونوں کم عمر تھے ۔ اور ابھی بولنے کی عمر کو نہیں پہنچے تھے ۔ تاہم ان کی جسمانی صحت یکساں تھی ۔ ان کو دو الگ الگ کٹہرے میں رکھ کر نکلنے کا دروازہ بند کر دیا گیا ۔ اس کے بعد لڑکی رونے چلانے لگی ، جب کہ لڑکے نے ادھر اُدھر ہاتھ مار کر اندازہ کرنا شروع کیا کہ کیا کسی طرف سے وہ نکلنے کا راستہ پا سکتا ہے ۔
اسی طرح ایک تجربہ میں پایا گیا کہ بارہ ماہ کی لڑکیاں کسی اجنبی کمرہ میں ہوں اور انھیں خوف زدہ کیا جائے تو وہ اپنی ماؤں کی طرف بھاگتی ہیں جب کہ اسی عمر کے لڑکے کچھ کرنے کی راہ ڈھونڈنے لگتے ہیں نیویارک یونیورسٹی میں ریسرچ کرنے والوں نے دیکھا کہ ایک لڑکی اگر بوتل پینے میں مشغول ہے تو وہ اس وقت پینے سے رک جاتی ہے جب کہ کوئی شخص کمرے میں آتا ہوا نظر آئے ۔ اس کے برعکس ایک لڑکا کسی آنے والے پر کوئی دھیان نہیں دیتا وہ اپنا کام بدستور جاری رکھتا ہے ۔
ماہرین نے بتایا ہے کہ عورت اور مرد کے تمام فرق ان کے جین کے اندر پائے جاتے ہیں نہ کہ سماجی حالات میں ۔ عورتوں کے اندر انفعالیت کا سبب ان کے مخصوص ہارمون ہیں ۔ میل ہارمون اور فیمیل ہارمون میں یہ فرق پیدائش کے بالکل آغاز سے موجود رہتا ہے ۔ ٹائم میگزین ، نیویارک ، ( ۲۰ مارچ1972) )
اسلام دین فطرت ہے ۔ اس کے تمام احکام فطری حقیقتوں پر مبنی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ فطری تقاضوں کو قانونی صورت دینے ہی کا دوسرا نام شریعت ہے ۔ عورت کے بارے میں اسلام کی تعلیمات بھی اسی بنیادی اصول پر مبنی ہیں ۔ نفسیات اور حیاتیات اور عضویات میں موجودہ زمانہ میں جو تحقیقات ہوئی ہیں وہ ثابت کرتی ہیں کہ مرد کے مقابلہ میں عورتیں فطری طور پر منفعل مزاج ہوتی ہیں ۔ مخصوص معاشرتی مصالح کی بنا پر خالق نے ان کو نسبتاً نازک پیدا کیا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues