Al-Risala · April 1986 · page 38

Some even own aircraft for their private use.

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۳۸

سفارش اور جانب داری کے تحت بھی جگہیں مل جاتی ہیں اس لیے اکثریتی فرقہ سے ہر قسم کے لوگ دفتروں اور اداروں میں بھر رہے ہیں۔ اس کے برعکس جب کوئی مسلمان لیا جاتا ہے تو وہ اپنی ممتاز لیاقت کی بنا پر لیا جاتا ہے۔ یہ گویا ایک قسم کا قدرتی انتخاب ہے ۔ اس طرح اقلیت کے ٹاپ کے لوگ اوپر آتے رہیں گے۔ حتیٰ کہ ایک وقت آئے گا جب کہ اکثریت کی نمائندگی اس کے مخلوط افراد کر رہے ہوں گے اور اقلیت کی نمائندگی اس کے ٹاپ کے افراد ۔

عام شہرت کے مطابق امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ خوش حال ملک ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی خوش حالی حقیقی سے زیادہ مصنوعی ہے ۔ امریکہ کی خوش حالی کا راز قرض ہے۔ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ سود دیتا ہے ۔ چنانچہ دنیا بھر میں لوگ امریکہ کے بنکوں اور تجارتی اداروں میں اپنا سرمایہ لگاتے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ۱۹۸۵ء کے آخر میں امریکہ کے اوپر بیرونی قرضوں کی مقدار تقریباً پانچ سو بلین ڈالر ہے اس قرض میں امریکہ کو ہر سال تقریباً پچاس بلین سود ادا کرنا ہوتا ہے ۔

زیادہ شرح سود کا براہ راست فائدہ امریکہ کو یہ ملا کہ اس کی کرنسی (ڈالر) کی اہمیت بڑھ گئی۔ آج کرنسی کی دنیا میں ڈالر کو ” شہنشاہ“ کا مقام حاصل ہے۔ آپ ہندوستانی سکہ لے کر باہر کی دنیا میں جائیں تو اس کی حیثیت وہی ہوگی جو شیخ سعدی نے اپنے اس شعر میں بیان کی ہے :

امیر زاده ناداں به شه روا ماند که در دیار غریبش به هیچ نستانند لیکن اگر آپ کے پاس ڈالر ہے تو دنیا کے ہر حصہ میں خالص سونے کی مانند آپ اس کی قیمت پاسکتے ہیں ۔ اس سودی معاشیات کا سب سے بڑا نقصان ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی تجارت ہے۔ امریکہ کو جب ہر سال پچاس بلین ڈالر سود ادا کرنا ہے تو ضروری ہے کہ وہ اپنی جمع شدہ رقم کو زیادہ سے زیادہ نفع بخش تجارت میں لگائے۔ موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ نفع بخش تجارت جنگی ہتھیار ہے۔ چنانچہ امریکہ بالقصد ساری دنیا میں جنگ کی آگ بھڑکاتا رہتا ہے تاکہ اس کی جنگی صنعت کے مستقل خریدار حاصل رہیں ۔ یہاں باقاعدہ ایسے جرائد شائع ہوتے ہیں جن میں ہتھیاروں کی ہلاکت خیزی کی تفصیل درج ہوتی ہیں ۔ کہ اگر آپ ہم سے فلاں ہتھیار خریدیں تو اس کے ذریعہ آپ اتنی زیادہ تباہی برپا کر سکتے ہیں۔ اسلحہ کی اس تجارت کی کم از کم جزئی ذمہ داری سودی معاشیات پر ہے۔ امریکہ اگر ہتھیاروں کی صنعت کو مسلسل نہ بڑھائے تو وہ اپنے اوپر بڑھتے ہوئے عالمی سود کو ادا کرنے کے قابل نہ رہے گا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues

Printed page