Al-Risala · April 1986 · page 39

Some even own aircraft for their private use.

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۶، صفحہ ۳۹

امریکہ میں جرائم کے بارے میں ایک رپورٹ یہ ہے :

امریکہ میں جدید ترقیاں اپنے کمال کو پہنچ رہی ہیں اس کے باوجود وہاں سب سے زیادہ جرائم ہوتے ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جرائم کا مادی ترقیات سے کوئی تعلق نہیں ۔

کچھ لوگ غلط طور پر یہ کہتے ہیں کہ جرائم غریبی کے ساتھ جنم لیتے ہیں ۔ اگر تمام لوگ خوش حال ہو جائیں تو جرائم اپنے آپ ختم ہو جائیں گے ۔ مگر جدید دنیا کا تجربہ اس کے خلاف ثبوت پیش کرتا ہے ۔ اصل یہ ہے کہ جرائم کا سبب انسان کی آزادی ہے ۔ انسان چوں کہ موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو آزاد محسوس کرتا ہے اس لیے وہ جہاں موقع پاتا ہے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے جس کا دوسرا نام جرم ہے ۔ انسان کو جرم سے باز رکھنے کی ایک ہی صورت ہے اور یہ کہ اس کو ایسا نظریہ دیا جائے جو اس سے اس کی آزادی عملی چھین لے ۔ جو اس کو پابند زندگی گزارنے پر مجبور کرے ۔ جو اس سے کہے کہ تمہاری آزادی ناحق کو چھوڑنے اور حق کو اختیار کرنے کے لیے ہے نہ کہ من مانی کارروائی کرنے کے لیے انسانیہ خدا کے آگے جواب دہی (Accountability) کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا ۔ ایک ہندوستانی ۱۹۴۹ کے انقلاب کے بعد امریکہ گیا ۔ وہاں اس نے کافی دولت کمائی ۔ اس کی ہندوستانی بیوی سے اس کے یہاں دو لڑکیاں پیدا ہوئیں ۔ ۱۹۶۹ میں اس کی بیوی کا انتقال ہو گیا ۔ اس وقت اس کی لڑکیاں اسکول میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں ۔ اپنی لڑکیوں کی خاطر اس نے دوسری شادی نہیں کی ۔ لڑکیاں یونیورسٹی میں پہنچیں تو حالات بدلنا شروع ہوئے ۔ اس کی بڑی لڑکی نے اپنی آزاد مرضی سے ایک امریکی لڑکے سے شادی کر لی ۔ تاہم صرف تین ماہ بعد اس سے طلاق ہو گئی ۔ اس کے بعد لڑکی نے باپ کا گھر چھوڑ دیا ۔ وہ باہر رہنے لگی ۔ چھوٹی لڑکی نے بھی ایک امریکی لڑکے سے اپنی ذاتی پسند کے تحت شادی کر لی ۔ مگر اس سے بھی ایک سال کے اندر علحدگی ہو گئی ۔ یہ لڑکی بھی باپ سے الگ ہو کر باہر نیو یارک میں رہنے لگی ۔ باپ کو اس کا بے حد رنج تھا ۔ اس نے بیوی بھی کھوئی اور آخر میں دونوں لڑکی بھی کھودی ۔ اس نے ایک روز اپنی ایک لڑکی سے کہا کہ تم جو کچھ کر رہی ہو وہ میری سمجھ میں نہیں آتا ۔ لڑکی نے فوراً جواب دیا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 1986 All issues

Printed page