Al-Risala · January 1986 · page 19

جہیز کے بارہ میں

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۶، صفحہ ۱۹

واضح ہو کہ حدیث میں جہیز کا لفظ معروف قسم کا جہیز دینے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ ضروری چیزوں کا انتظام کرنے کے معنی میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ انتظام خود حضرت علی کی رقم پر کیا تھا۔ یہ رقم حضرت علی نے اپنی ایک پرانی زرہ فروخت کر کے آپ کے حوالے کی تھی۔ مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں حضرت فاطمہ کے علاوہ تین اور صاحبزادیاں تھیں جو بڑی ہوئیں اور پھر بیاہی گئیں۔ مگر مذکورہ ’’جہیز‘‘ آپ نے صرف حضرت فاطمہ کو دیا۔ بقیہ صاحبزادیوں کو اس قسم کا کوئی جہیز نہیں دیا۔ اگر جہیز فی الواقع آپ کی مستقل سنت ہوتی تو آپ نے بقیہ صاحبزادیوں کو بھی ضرور جہیز دیا ہوتا ۔ مگر تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں نہیں ملتا کہ آپ نے بقیہ صاحبزادیوں کو بھی ”جہیز“ دیا ہو۔

یہ فرق خود ثابت کرتا ہے کہ مذکورہ جہیز، اگر اس کو جہیز کہا جاسکے، بر بنائے ضرورت تھا نہ کہ بربناء رسم ۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی جب چھوٹے تھے اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد ابو طالب سے کہہ کر ان کو اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا حضرت علی بچپن سے آپ کی زیر کفالت تھے۔ گویا حضرت علی ایک اعتبار سے آپ کے چچا زاد بھائی تھے اور دوسرے اعتبار سے آپ کے بیٹے کے برابر تھے۔ بچپن سے آپ کے تمام اخراجات کی فراہمی آپ کے ذمہ تھی۔ اس لیے بالکل قدرتی بات تھی کہ نکاح کے بعد نیا گھر بسانے کے لیے آپ انہیں بطور سرپرست کچھ ضروری سامان دے دیں ۔

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اسلام ایک ناقص دین ہے ، اس میں زندگی کے تمام معاملات کے بارہ میں احکام موجود نہیں ۔ تو مسلمان ایسے شخص سے لڑنے کے لیے تیار ہو جائیں گے ۔ مگر عملاً مسلمان اسی بات کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ اسلام ایک ناقص دین ہے ، یاکم از کم یہ کہ اس کی ہدایات کے مقابلہ میں دوسرے مذاہب کے طریقے زیادہ بہتر اور زیادہ قابل عمل ہیں ۔

جہیز کے بارہ میں مسلمانوں نے واضح طور پر ہندو طریقہ اختیار کر لیا ہے ۔ اسی طرح شادی بیاہ کی دوسری رسوم جو مسلمانوں میں رائج ہیں وہ اسلام سے زیادہ دوسری قوموں کے طور طریقوں سے ماخوذ ہیں۔ اگر مسلمانوں کا یہ خیال ہو کہ اسلام کے کامل دین ہونے پر فخر کرنا ہی خدا کے یہاں ان کی مقبولیت کے لیے کافی ہے تو اس سے بڑی غلط فہمی اور کوئی نہیں ۔ کیوں کہ یہود حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر فخر کرتے تھے اس کے باوجود وہ خدا کے یہاں ملعون قرار دیئے گئے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1986 All issues

Printed page